حیدرآباد

سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ کہاں گیا؟ مودی سے اسد الدین اویسی کا استفسار

اویسی نے مزید کہا کہ انہیں ایک نامعلوم شخص کی طرف سے دھمکی آمیز ایس ایم ایس بھی موصول ہوا جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔

حیدرآباد: صدر مجلس اسد الدین اویسی نے امید ظاہر کی تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی 15 اگست کو قومی دارالحکومت میں یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر کے دوران ہریانہ کے نوح میں انہدام کی کارروائی اور مبینہ تشدد کی مذمت کریں گے جس کے ذریعہ اس مخصوص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں
اسدالدین اویسی کا کووڈ وبا کے تباہ کن اثرات کی طرف اشارہ
سکندرآباد آتشزدگی سے متاثرہ بلڈنگ کو منہدم کرنے کا منصوبہ
خواتین کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعظم لب کشائی پر مجبور :اسد اویسی
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)
مودی کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے پر کارروائی رپورٹ طلب

 یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ایک طرف مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کا استعمال کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف دہلی میں ان کے گھر پر حملہ ہوا ہے۔وزیر اعظم کو نوح میں گھروں کے انہدام کی مذمت کرنی چاہئے۔

 اگر انہیں ہندوستانی مسلمانوں سے کچھ محبت ہے تو میں ان سے امید کرتا ہوں کہ وہ کل لال قلعہ سے ٹارگیٹیڈ تشدد کی مذمت کریں گے۔ہم وزیر اعظم سے توقع کرتے ہیں کہ جس طرح سے ایک مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ تشدد کی مذمت کریں گے اور چاہے وہ نوح میں تشدد ہو یا کہیں اور۔

اسد اویسی کے مطابق ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کے گھروں کو مسمار کرکے ایک کمیونٹی کو اجتماعی سزا دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تشدد کی مذمت کرتے ہیں لیکن آپ ایک کمیونٹی کو اجتماعی سزا دے رہے ہیں۔

انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وزیر اعظم کا ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس’ کا نعرہ کہاں گیا؟مختلف ریاستوں میں انہدام کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہا کہ ہریانہ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات میں بلڈوزر کا استعمال کیا گیا۔

 کیا اس ملک میں کوئی عدالتیں یا قانون نہیں ہیں؟انہوں نے پوچھا کہ کیا قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا یا نہیں؟ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ جہانگیر پوری کیس میں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے جہاں عدالت نے کہا تھا کہ مناسب عمل (قانون) پر عمل کیا جانا چاہئے۔

اپنی دہلی کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک تو نوح میں مسلمانوں کی عمارتوں کو گرانے کے لئے بلڈوزر کا استعمال کیا گیا اور شاید ہم اپنے گھر پر بھی بلڈوزر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ میں ایک اہم تقریر پر یہ لوگ پتھراؤ کرتے ہیں… میں چار بار ایم پی رہ چکا ہوں اور میرے گھر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں۔اویسی نے مزید کہا کہ انہیں ایک نامعلوم شخص کی طرف سے دھمکی آمیز ایس ایم ایس بھی موصول ہوا جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکمرانی کے پچھلے 9 سالوں میں لوگوں کے رہنے کے لئے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ ان کے خیال میں اس واقعہ کے لئے کون ذمہ دار ہے۔

ایم آئی ایم لیڈر نے کہا کہ جو لوگ مسلمانوں کے ہجومی تشدد میں ملوث ہیں اور اس کے پیچھے ایک جیسی سوچ رکھنے والے ہیں، وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ اویسی نے مزید کہا کہ وہ ایسی چیزوں سے نہیں ڈرتے۔