“حجاب نہیں اتاریں گے” — جھارکھنڈ کے ہوٹل میں مسلم مہندی آرٹسٹس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، کام چھوڑ کر واپس (ویڈیو وائرل)
مہندی آرٹسٹس نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حجاب ان کے مذہبی عقیدے اور ذاتی شناخت کا حصہ ہے، اس لیے وہ اسے نہیں اتار سکتیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ انکار کے بعد وہاں ماحول کشیدہ ہو گیا اور خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔
حاجی پور/ہزارباغ، جھارکھنڈ: ریاست جھارکھنڈ کے شہر ہزارباغ میں حجاب کے معاملے پر ایک تنازع سامنے آیا ہے، جس میں ایک مسلم مہندی آرٹسٹ اور اس کی ساتھی خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مہندی آرٹسٹ عالیہ احمد اپنی چند ساتھی خواتین کے ساتھ دہلی سے آئے ایک ہندو خاندان کے پروگرام میں مہندی لگانے کے لیے ایک مقامی ہوٹل پہنچی تھیں۔ تاہم وہاں پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر ان سے کہا گیا کہ وہ مہندی لگانے سے پہلے اپنا حجاب اتار دیں۔
مہندی آرٹسٹس نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حجاب ان کے مذہبی عقیدے اور ذاتی شناخت کا حصہ ہے، اس لیے وہ اسے نہیں اتار سکتیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ انکار کے بعد وہاں ماحول کشیدہ ہو گیا اور خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے بعد عالیہ احمد اور ان کی ساتھیوں نے کام کرنے سے صاف انکار کر دیا اور پروگرام چھوڑ کر وہاں سے واپس چلی گئیں۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث آ گیا ہے، جہاں کئی افراد اس معاملے پر مختلف ردِعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض لوگ اسے مذہبی آزادی کے مسئلے سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ابھی تک اس معاملے پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر مذہبی آزادی اور باہمی احترام کے موضوع پر بحث کا سبب بن گیا ہے۔