مذہب

بزرگوں کی تصویر پر پھول مالا چڑھانا

جاندار کی تصویر بنانا اور اس کو خریدنا اور بیچنا حرام ہے اور حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے ، خاص کر وہ تصویر جس کو بطور احترام کے لٹکاکر رکھاگیا ہو ،

سوال:- کسی بزرگ کی تصویر کا فریم بناکر دکان میں رکھنا ، اس پر پھول مالا چڑھانا اور اگربتی جلانا کیا جائز ہے ، جبکہ اس کا مقصد صرف احترام ہو پوجا نہیں ہو؟ (محمد بلال، سنتوش نگر )

جواب:- جاندار کی تصویر بنانا اور اس کو خریدنا اور بیچنا حرام ہے اور حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے ، خاص کر وہ تصویر جس کو بطور احترام کے لٹکاکر رکھاگیا ہو ،

ان کے ناجائز ہونے پر تو جمہور فقہاء متفق ہیں اور تصویر کی ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے لوگوں کے ذہن میں اس کی عظمت و توقیر پیدا ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ لوگوں کو شرک کی طرف لے جاتی ہے ،

پھول چڑھانا اور اگربتی جلانا تو اس بات کی صاف دلیل ہے کہ صاحب تصویر کی مبالغہ آمیز طریقہ پر تعظیم مقصود ہے ؛ کیوںکہ غیر مسلم حضرات اپنے دیوتاؤں اوردیویوں پر اسی طرح پھول چڑھاتے اور اگربتی جلاتے ہیں ،

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے تصویر کے حرام ہونے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھاہے کہ اس کی دو علتیں ہیں : ایک تعظیم ، دوسرے اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مشابہت:

وقد ظہر من ہذا أن علۃ الکراہۃ في المسائل کلہا إما التعظیم أو التشبیہ (ردالمحتار: ۲؍۴۱۷)

اور یہ دونوں ہی باتیں اس صورت میں پائی جارہی ہیں ؛ اس لئے بزرگوں کی تصویریں بنانا ، انہیں لٹکانا اور ان تصویروں پر پھول مالا چڑھانایا اگربتی جلانا جائز نہیں اور یہ خود ان بزرگوں کی تعلیمات اور ہدایات کے بھی خلاف ہیں ۔