سیاستمضامین

جرمنی کو تباہ کرنے والے اڈولف ہٹلر کی چند خصوصیاتتقریر سے پہلے وہ بھائیو۔ دوستو اور بہنوکہتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اچھے دن آئیں گے

محمد ضیاء الحق ۔ ایڈوکیٹ ہائیکورٹ آف حیدرآباد

٭ وہ کہتا تھا کہ جرمنی کے اچھے دن آئیںگے۔
٭ اس نے پریس اور ریڈیوکو اپنے قابو میںکرلیا تھا۔
٭ اس نے اپنے سیاسی مخالفین کو آہنی پنجہ سے کچل دیا تھا۔
-1 ہٹلر نے جرمنی پر حکومت کی اور جرمنی کو برباد کردیا۔
-2 اڈولف ہٹلر نے کبھی شادی نہیں کی اور وہ فیملی لائف کو پسند نہیں کرتا تھا۔
-3 اڈولف ہٹلر کا یقین بلکہ ایمان تھا کہ ایک خاص مذہب یا نسل کے لوگ جرمن قوم کے دشمن تھے۔
-4 ہٹلر کے ہمنوا اور ساتھی اس بات کو برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ کوئی بھی فرد اس پر کسی بھی قسم کی تنقید کرے اور اس کے برابر دنیا میںکسی کو بھی نہ سمجھے۔
-5 تمام اخبارات ‘ نیوز ایجنسیاں‘ میگزین پر یہ فرض عائد کردیا گیا تھا کہ وہ ہٹلر کو ایک عظیم شخصیت ثابت کریں اور یہ بتائیں کہ جرمنی تو کیا دنیا میں اس کے برابر کوئی بھی نہیں۔
٭ اڈولف ہٹلر نے اپنے تمام مخالفین ‘ ناقدین کو آہنی پنجہ سے کچل کر رکھ دیا اور میڈیاکو مکمل اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
-7 اڈولف ہٹلر اپنی انتخابی تقاریر میں کہا کرتا تھا کہ وہ جرمنی کے تمام مسائل اور مشکلات کو حل کردے گا۔
-8 ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے بعد اور اختتام سے پہلے جرمنی کا کوئی بھی مسئلہ حل نہ ہوسکا بلکہ الٹا جرمنی برباد ہوگیا۔
-9 انتخابی ریالیوں میں اور تقاریر میں وہ کہا کرتا تھا کہ اچھے دن آئیں گے۔ (GUTE TAGI KOMMEN)
-10 اڈولف ہٹلر ہمیشہ بہترین پوشاک پہنتا تھا اور اسے خود کو سجانے کا شوق تھا۔ اس کے میک اپ کرنے والے کئی تھے اور وہ دن میں کم از کم تین کپڑے کے جوڑے بدلتا تھا۔
-11 اڈولف ہٹلر کی یہ خوبی تھی کہ وہ ایک جذباتی مقرر تھا اور صریح جھوٹ کو اس انداز سے کہتا تھا گویا وہ حقیقت ہے۔
-12 اڈولف ہٹلر کو تقریباً ہر روز ریڈیو پر تقریر کرنے کا شوق تھا اور اس کے سامعین کی تعداد لاکھوں بلکہ کروڑوں میں تھی۔
-13 اڈولف ہٹلر اپنی تقریر میں مجمع سے ’’ دوست۔ بھائی اور بہن‘‘ کہہ کر مخاطب ہوتا تھا۔
(Freunde, Brüder, Schwestern)
-14 اڈولف ہٹلر کو اپنی تصویریں کھنچوانے کا بہت شوق تھا۔
-15 ہٹلر ایک غریب اور مفلوک الحال خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔
-16 اڈولف ہٹلر سخت غربت و لاچاری کا شکار تھا۔
-17 ہٹلر میں زبردست انتظامی صلاحیت تھی اور انسانوں کا اپنے مفاد میں استعمال کرنے کا گر جانتا تھا۔
-18 ہٹلر ایک زبردست مقرر تھا اور اس کی تقریر کا بہت اثر پڑتا تھا۔
-19 اڈولف ہٹلر لوگوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کرتا تھا او ران کے ذریعہ اپنا کام نکالنے کی خاطر کسی حد تک بھی جاسکتا تھا۔
-20 اڈولف ہٹلر نے(CARONY PATROTISM) دیش بھگتی کو اپنے اقتدار کا ذریعہ بنایا تاکہ سننے والوں پر ایک کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔
-21 اڈولف ہٹلر نے جرمنی کی جاسوسی ایجنسی گسٹاپو کا استعمال کیا ۔ اس وقت انفارمیشن ٹکنالوجی نہیں تھی۔
-22 اڈولف ہٹلر اپنے سیاسی اور نظریاتی مخالفین کے خلاف زبردست پروپگنڈہ کیا اوراس میں اس نے اپنی تقریری صلاحیت کا بھر پور استعمال کیا۔
-23 ہٹلر ایک منتخبہ صدر مملکت تھا لیکن بعد میں اس نے ایک ڈکٹیٹر کا روپ دھارلیا۔
-24 (SCHUTZ STAFFEL) ہٹلر کی ایک نیم فوجی تنظیم تھی جس کی وجہ سے وہ برسراقتدار آیا۔
-25 اڈولف ہٹلر اور نازی پارٹی کا ایقان (LEBENSRAUM) یعنی گریٹر جرمنی یا اکھنڈ جرمنی میں تھا کیوں کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی ٹوٹ کر کئی ٹکڑوں میں تبدیل ہوگیا تھا۔
-26 اس کا خیال تھا کہ جرمنی پر دوسروں نے قبضہ کرلیا ہے۔
27 اڈولف ہٹلر اس وقت برسراقتدار آیا جب جرمنی میں افراطِ زر (INFALTION) عروج پر تھا۔
-28 مخالف پارٹیوں کو وہ کرپٹ اور بزدل کہتا تھا اور ان کے پیچھے اپنے (GESTAPO) کے لوگوں کو لگا کر یا تو گرفتار کروادیتا یا قتل کروادیا کرتا تھا۔
-29 ہٹلر اقلیتوں سے شدید نفرت کرتا تھا اور اس کا شکار زیادہ تر یہودی اور کمیونسٹ ہوئے ۔
-30 اقتدار پر آنے کے بعد اس نے جرمنی کے محکمۂ تعلیم کے عہدیداروں کو حکم جاری کیا کہ وہ اس کے خیالات کو تسلیم کریں اور اس کو نصاب کا حصہ بنائیں۔
-31 ہٹلر نے جرمنی کی تاریخ کو نصاب میں اس طرح تبدیل کیا جیسا کہ اس کے سیاسی نظریات تھے۔
-32 ہٹلر کا یک پروپیگنڈہ منسٹر تھا جس کا نام گوبلز تھا جس کا کام ہٹلر کے ہر چھوٹے کام کو بڑا کرکے دکھانا تھا۔ مبالغہ آمیزی سے کام لینا تھا۔ یہ وزیر یہاں تک کہتا تھا کہ جھوٹ کو اتنا دہراؤ کہ وہ سچ ثابت ہو۔ اس زمانے میں ہٹلر کے پاس (I.T.Cell) نہیں تھا۔
-33 ہٹلر نہ بیوی رکھتا تھا اور نہ بچے۔ اس نے شادی ہی نہیں کی اور وہ فیملی لائف کو پسند نہیں کرتا تھا کیوں کہ وہ خود پسند تھا۔
-34 اڈولف ہٹلر ایک ایک دن میں تین چار جلسے کرتا تھا اور اپنی تقریروں سے جرمنوں کو ابھارتا۔
-35 اڈولف ہٹلر نے پیسے وصول کرنے کی خاطر کارپوریٹ سیکٹر کو بہت آزادیاں دیں اور جنگی آلات ۔ ہوائی جہاز بنانے میں ان کا سرمایہ حاصل کیا۔
-36 ہٹلر نے ملک کی عدلیہ پر زبردست اثر ڈالا اور کوئی فیصلہ حکومت کے خلاف نہیں آسکتا تھا۔
-37 ملک کی نچلی اور اعلیٰ عدالتیں حکومت کے خلاف فیصلہ صادر کرنے سے گریز کرتی تھیں۔
اب قارئین کرام خود فیصلہ کریں کہ اس شخص کے مماثل دوسرا قائد دنیا میں کون ہے جو صرف اپنی آئیڈیالوجی سے اپنا ملک چلاتا ہے۔
کیا ہمارے ملک میں بھی ایسے حالات رونما ہونے جارہے ہیں کیوں کہ موجودہ زعفرانی حکمرانوں کو اب بھیانک فسادات۔ آگ و خون کے ماحول میں انتخابی جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔ ہمیں خود کو ذہنی طور پر تیار رہنا ہے۔ جو ہونے والا ہے نوشتۂ دیوار ہے۔
آثارِ قدیمہ کی نگہداشت میں سات سو سالہ مسجد صرف اسلئے ڈھادی جاتی ہے کہ اس کی تعمیر ‘ تعمیری ضوابط کے خلاف ہے۔ عدلیہ حکومت کی محکوم ہوچکی ہے۔ کم از کم ہائیکورٹ کی سطح تک حکمران طبقہ اپنا اثر قائم کرسکا ہے اور فیصلے اپنی مرضی سے حاصل کئے جارہے ہیں ۔ سپریم کورٹ سے صرف لفظی حمایت ہوسکتی ہے لیکن جب فیصلہ کا مرحلہ آتا ہے تو تصویر بالکل بدل جاتی ہے۔ عدلیہ میں نچلی سے اونچی سطح تک راشٹریہ سیوک سنگھ کے تربیت یافتہ اور ان کے نظریات سے متاثر ججس کا تقرر کیاجاچکا ہے جو اپنے آقاؤں کے اشاروں پر فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ چار سو سالہ قدیم مسجد میں پوجا کی اجازت دی جاتی ہے۔ ملک میں مسلمان اپنے آپ کو محصور سمجھتا ہے۔ پتہ نہیں کب فسادات پھوٹ پڑیں اور شمالی ہند میں خون اور آگ کی ہولی میں کئے جانے والے انتخابات میں یکطرفہ کامیابی حاصل کرلیں اور پھر مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بناکر ان کی شناخت۔ قومیت اور جائیدادیں ختم کردی جائیں۔ مسلمانوں کے عائلی مسائل میں مداخلت کے ذریعہ دل آزاری کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ قبائلی پندرہ کروڑ آبادی والے افراد اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے۔ سکھوں اور عیسائیوں کو یہ بات منظور نہیں۔
اڈولف ہٹلر کے چیلوں سے اور کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔
اربن لینڈ سیلنگ میں فاضل اراضیات پر قبضہ جات کو باقاعدہ بنانے کا عمل معرض التواء میں پڑا ہوا ہے
حیدرآباد میں اربن لینڈ سیلنگ میں فاضل قرارکردہ اراضیات پر اکثر قابضین نے اپنے مکانات تعمیر کروالئے ہیں اور تقریباًتیس سال سے وہیں مقیم رہ کر پراپرٹی ٹیکس بھی ادا کررہے ہیں لیکن گورنمنٹ ان کے حقِ ملکیت کو تسلیم نہیں کررہی ہے اور بھاری قیمت کے عوض قبضہ جات کو باقاعدہ بنانے کا گورنمنٹ آرڈر بھی جاری کیاگیا ہے اور کئی ایک حضرات نے اپنی درخواستیں معہ فیس بھی ادا کردی ہیں لیکن آج تک کسی کی بھی درخواست پر عمل درآمد نہیں ہوا اور ساری درخواستیں معرض التواء میں پڑی ہوئی ہیں۔
ہماری رائے میں اور قانون کی نظر میں فاضل اراضیات پر جو 23-3-2008ء کی تاریخ سے قابض ہے اور اس کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہو تو درخواست پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ ایسی اراضیات کے وہ خود قانونی مالک ہیں۔
1976ء کا قانون1999ء میں منسوخ ہوا ۔ یعنی جو قابض ہے وہی مالک ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی روشنی میں اگر حکومت نے ایسی اراضی کا مکمل قبضہ حاصل کرلیا ہویعنی (Physical Possession) حاصل کرلیا ہو تو ایسی اراضی حکومتی ملکیت قراردی جائے ۔ دوسری جانب اگر23-3-2008ء کی تاریخ سے پہلے ہی سے قابض ہے اور اس کے پاس دستاویزی ثبوت مثلاً بیع نامہ‘ رجسٹر شدہ یا نوٹری ۔ مکان ٹیکس رسید۔ آدھار کارڈ ۔ الکٹرک یا ٹیلی فون بل۔ ووٹرس لسٹ میں نام کا اندراج ہو تو اسے ہی مالک قراردیا جائے گا اور حکومت کو اسے بے دخل کرنے یا اس کی قیمت حاصل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ 23-3-2008ء کی تاریخ اس وجہ سے اہمیت رکھتی ہے کہ اسی تاریخ کو حکومت آندھرا پردیش نے1999ء کے منسوخ شدہ قانون کو تسلیم کرلیا تھا۔
ایک تلنگانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ نے اس صورت کو بالکل واضح کردیا۔ NILE LTD. کیس میں ہائیکورٹ نے حکومت کے رقمی مطالبہ کو مسترد کردیا کیوں کہ 23560 مربع میٹر اراضی کو فاضل قراردیا گیا تھا لیکن23-3-2008ء سے قبل ہی یہ کمپنی اپنا کام کررہی تھی یعنی حکومت نے اس اراضی کا Actual Physical Possession حاصل نہیں کیا تھا۔ اس مقدمہ میں حکومت کی ہار ہوئی۔
ہماری رائے میں درخواستیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن جو درخواستیں داخل کی گئی ہیں اور ان پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے تو ہائیکورٹ میں رٹ درخواست دائر کرکے قبضہ جات کی باقاعدگی کے احکامات حاصل کئے جاسکتے ہیں۔