حیدرآباد

خاندانی منصوبہ بندی: متاثرہ خواتین کی گورنر تلنگانہ نے نمس میں عیادت کی

نمس میں 12خواتین زیرعلاج ہیں۔ان تمام سے گورنر نے آج ملاقات کی اور ان کی صحت کے بارے میں ان سے بات چیت کی۔بعد ازاں انہوں نے ڈاکٹرس سے ان خواتین کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کا بہتر علاج کرنے کا مشورہ دیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی گورنر ڈاکٹرتمیلی سائی سوندراراجن نے شہرحیدرآباد کے نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس(نمس) میں زیرعلاج خواتین کی عیادت کی جن کی صحت ابراہیم پٹنم میں خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے بعد بگڑگئی تھی۔

گذشتہ ماہ کی 20تاریخ کو تقریبا 34خواتین کا خاندانی منصوبہ بندی کاآپریشن ابراہیم پٹنم میں کیاگیا تھاتاہم 36گھنٹوں کے بعد چارخواتین کی موت ہوگئی تھی اور دیگر کی صحت خراب ہوگئی تھی جس کے بعد ان کو علاج کے لئے نمس کے ساتھ ساتھ دوسرے اسپتال منتقل کیاگیا تھا۔

نمس میں 12خواتین زیرعلاج ہیں۔ان تمام سے گورنر نے آج ملاقات کی اور ان کی صحت کے بارے میں ان سے بات چیت کی۔بعد ازاں انہوں نے ڈاکٹرس سے ان خواتین کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کا بہتر علاج کرنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے مریضوں میں پھل بھی تقسیم کئے۔

 انہوں نے نمس میں ان خواتین کے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے مالی امداد کا حکومت نوٹ لے اور انہیں مدد کی فراہمی کو یقینی بنائے، ایسے واقعات کے اعادہ کو روکنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

 انہوں نے ڈاکٹرس کو انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ آپریشن کرنے کا ہدف بنا کر مریضوں کی زندگیوں سے نہ کھلواڑنہ کریں۔ خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے لئے زیادہ سے زیادہ خواتین آگے آناچاہتی ہیں تاکہ اس طرح کے واقعات سے ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن سرکاری اسپتالوں میں آسانی سے ہونے چاہئیں۔گورنر نے خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے بعد چار خواتین کی موت پر گہرے دکھ کابھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ جاری ہے اور حقائق، رپورٹ ملنے کے بعد سامنے آئیں گے۔

یہ جانچ، آزادانہ اور منصفانہ ہونی چاہئے۔گورنر نے واضح کیا کہ وہ ابراہیم پٹنم کے اسپتال بھی جائیں گی جہاں پر یہ آپریشن انجام دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے وہ حکومت کو مکتوب روانہ کریں گی۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ متاثرہ خواتین کے ساتھ اخلاقی تعاون کے لئے ہی انہوں نے نمس میں زیرعلاج ان خواتین کی عیادت کی ہے۔یہ خواتین ان کے نمس میں بہتر علاج پر کافی خوش ہیں۔ان میں سے بعض مالی تعاون کی خواہش کررہی ہیں۔

وہ اس بات کی خواہش ریاستی حکومت سے کریں گی اور جب کچھ ان کے حدود میں ہیں وہ ان متاثرین کیلئے کریں گی۔ان خواتین کے ارکان خاندان کافی پریشان ہیں۔نہ صرف گورنر بلکہ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے ان کو اس واقعہ پر فکر ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کے دوران ایسے واقعات سے خواتین کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ یہ قومی پروگرام ہے۔اس تعلق سے احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری اسپتالوں میں بہتر انفراسٹرکچر کی اپیل کرتی ہیں تاکہ ہر مریض کا بہتر علاج کیاجاسکے۔