سیاستمضامین

عصری تعلیم بے حد ضروریدینی تعلیم اس سے زیادہ ضروری

ہمارے بچوں کی دینی تربیت نہ تو مدارس میں صد فی صد ممکن ہے۔ نہ ہی یہ مولوی صاحب کی ذمہ داری ہے بچے ہمارے ہیں تو ان کی تربیت بھی ہماری ہی ذمہ ہے۔ یقینا بچوں کو عصری تعلیم دلوانا ضروری ہے لیکن اس سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی جڑوں سے جڑنے کا سامان فراہم کریں۔ یہ کوئی ذاتی مفاد اور جذباتی نعرہ نہیں بلکہ دردمندانہ اپیل ہے کہ اپنے بچوں کو اردو زبان و ادب سے جوڑیئے اور ماشاء اللہ سے اردو زبان و ادب میں اتنے سارے وسائل کتابوں کی شکل میں موجود ہے ای بکس ہیں، ویب سائٹس ہیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے بچے مذہب اسلام کی تعلیمات سے بھی جڑے رہ سکتے ہیں۔ ذرا دیکھئے آج شہر حیدرآباد کا کیا عالم ہوگیا ہے۔ سیرت النبی کے بڑے بڑے پروگرام ہو رہے ہیں، بڑے بڑے مقرر شہر میں تشریف لا رہے ہیں اور سبھی منتظمین اس بات پر پریشان ہیں کہ حاضرین اور سامعین کو کیسے لائیں، کہاں سے جوڑیں، نوجوان نسل تو موبائل سے جڑی ہے۔ سننے آتے بھی تو زبان کہاں سے سمجھ میں آتی ہے۔

محمد مصطفی علی سروری

مسلمانوں میں تعلیمی شعور کی بیداری کے لیے گذشتہ کئی برسوں سے بے شمار تنظیمیں، افراد اور انجمنیں مسلسل سرگرم عمل ہیںاور ماشاء للہ سے اس کے نتائج بھی آنے لگے ہیں۔ سول سروسز سے لے کر ایم بی بی ایس تک، لیگل سرویسز سے لے کر بزنس مینجمنٹ تک ہر شعبۂ تعلیم میں مسلمان نوجوان کامیابی کے پرچم بلند کر رہے ہیں۔
قارئین کرام نوجوانوں کی اس کامیابی کی قیمت کیا ہے؟ کیاآپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بحیثیت مسلم قوم مسجد کے منبر سے لے کر گلی کے نکڑ تک ہر ایک فرد نے جب مسلمانوں کو عصری تعلیم کے حصول کی ترغیب دلائی تو مسلمانوں نے آئی اے ایس بھی بن کر دکھایا اور مسلمان نوجوان آئی اے ایس ہو یا آئی پی ایس سائنٹسٹ ہو یا سماجی جہد کار اپنے کام سے نام تو کمایا ہے اور جہاں تک اس کامیابی کی قیمت کا سوال ہے تو ہم میں سے بہت ہی کم سرپرست اور والدین نے یہ سونچا کہ اپنے بچوں کو مسلم نوجوانوں کوعصری اعلیٰ تعلیم دلوانے کی ہم نے کتنی بڑی قیمت چکائی ہے۔
یہ سال 2015ء کی بات ہے جب یونین پبلک سرویس کمیشن نے سیول سرویسز کے امتحان اور انٹرویو کی بنیاد پر کامیاب امیدواروں کی فہرست جاری کی تو اس میں سرفہرست دو نام تھے۔ ایک خاتون تھی جس نے آل انڈیا پہلا رینک حاصل کیا جبکہ دوسرا رینک حاصل کرنے والے امیدوار کا تعلق مسلم طبقے سے تھا۔ کامیاب ہونے والے جملہ امیدواروں کی تعداد 1078 تھی۔ ان میں سے ایک رپورٹ کے مطابق کامیاب ہونے والے مسلم امیدواروں کی تعدد 34 تھی۔ملک و بیرون ملک مسلمانوں کی کامیابی کا جشن منایا گیا۔ مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ ایک دوسرے کو مبارکبادیاں دی گئیں۔
جب سال 2015ء میں یو پی ایس سی کا امتحان کامیاب کرنے والے آئی اے ایس افسران کی تربیت مسوری میں شروع ہوئی تو جلد ہی سوشیل میڈیا اور پھر بعد میں مین اسٹریم میڈیا نے خبر دی کہ فرسٹ رینک حاصل کرنے والی غیر مسلم لڑکی اور دوسرا رینک حاصل کرنے والے مسلمان افسر کے درمیان (Dating) چل رہی ہے۔ Livemint.com کی 3؍ جولائی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق کشمیر سے تعلق رکھنے والے اطہر احمد خان اور ٹینا دابی کے درمیان 2015ء میں دہلی میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان دوستی گہری ہوتی گئی اور پھر سال 2018 میں ان دونوں نے شادی کرلی۔ یہ شادی سال 2020ء میں اس وقت ٹوٹ گئی جب ان دونوں نے عدالت میں طلاق کے لیے معاملے کو رجوع کیا اور اگست 2021ء کو ٹینا دابی اور اطہر احمد خان کے درمیان باضابطہ طلاق ہوگئی۔
یقینا بہت سارے قارئین نے اس شادی اور پھر طلاق اور دوبارہ ان لوگوں کی اپنے ہم مذہب مرد و خواتین کے ساتھ شادی کی خبر یں پہلے ہی پڑھی ہوں گی۔ دراصل جب سے مسلم قوم نے عصری تعلیم کے حصول کو اپنی زندگی کا واحد ہدف بنالیا اور اپنے سارے وسائل اور اپنی ساری توانائیاں عصری تعلیم کے حصول پر صرف کرنا شروع کیا ہے تب سے مسلمانوں میں دینی تعلیمات سے دوری اور خلاف دین، خلاف شریعت سرگرمیاں تیزی سے عام ہونے لگی ہیں۔ بہت سارے دانشور حضرات مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کو بھی ایک نہایت اہم مسئلہ مانتے ہیں۔ لیکن ہم ہندوستانی مسلمان اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ معاشی پسماندگی کا مسئلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ دیگر برادران وطن کے ساتھ بھی درپیش ہے۔
سب سے تشویش کی بات تو یہی ہے کہ مسلمان اپنی شناخت پر سمجھوتہ کر کے ترقی کے منازل طئے کرنا چاہتا ہے۔
ذرا سونچئے اگر مسلمان اپنی شناخت یعنی اپنے مذہب سے ہی دور ہوجائے تو کیا بچے گا۔ صرف مسلمانوں کی طرح نام؟
یہ صرف ایک اکیلا اکلوتا واقعہ نہیں بلکہ حالیہ عرصے میں دارالحکومت دہلی سے آنے والی ایک خبر نے بھی ملک بھر میں لوگوں کے دل دہلادیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ممبئی کی رہنے والی 27 سالہ شردھا والکر کی دوستی ایک آن لائن ایپ کے ذریعہ سے دہلی کے ایک مسلم نوجوان 28 سالہ آفتاب امین کے ساتھ ہوجاتی ہے اور قارئین ذرا غور کیجئے کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکی کے ساتھ عشق میں مبتلا ہوکر اس کے ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنے لگتا ہے۔
اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ جو اخبار کی 14؍ نومبر 2022 کی اشاعت میں شامل تھی کے مطابق ممبئی کی لڑکی مسلم لڑکے سے محبت میں گرفتار ہوکر ممبئی چھوڑ کر دہلی چلی جاتی ہے جہاں پر یہ دونوں میاں بیوی کی طرح (Live-in) تعلقات میں سال 2019سے رہ رہے تھے اور ایک دن جب شردھا نے آفتاب پر شادی کے لیے دبائو ڈالا تو آفتاب نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے شردھا گلا گھونٹ کر مار ڈالا اور پھر اس کی نعش کے 35 چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے انہیں پلاسٹک کی تھیلیوں میں ڈال کر پہلے تو فریج میں محفوظ کردیا اور پھر وقفہ وقفہ سے نعش کے ٹکڑوں کوکئی دنوں تک مختلف جگہوں پر ٹھکانے لگاتا رہا۔
ایک مسلمان نوجوان کی جانب سے ایک ہندو لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنا، میاں بیوی کی طرح رہنا اور پھر اس لڑکی کا قتل کرنا انفرادی واقعہ ہوسکتا ہے لیکن قارئین یاد رکھئے اس طرح کی ایک حرکت کی قیمت بھی پوری مسلم قوم کو ادا کرنی پڑسکتی ہے۔ اس لیے غور کریں کہ چند ایک نوجوان بھی راہ راست سے بھٹکتے ہیں تو انہیں نظر انداز نہ کریں۔ اللہ سے ہدایت کی دعاء تو کرنا ہے ساتھ ہر ممکنہ کوشش کر کے ان کی کونسلنگ بھی اور سب سے اہم بچوں کی کم عمری میں تربیت کو یقینی بنانا تاکہ کوئی دوسرا مسلم نوجوان اس طرح کی غیر شرعی اور غیر اسلامی حرکت دوبارہ نہ کرسکے۔
اب ایک اور واقعہ کا تجزیہ کرتے ہیں جو دراصل یکم؍ نومبر 2022ء کو پیش آیا۔ مگر 11؍ نومبر 2022ء کو میڈیا کے ذریعہ عوام کے سامنے رپورٹ ہوا۔
تفصیلات کے مطابق 11؍ نومبر 2022ء کو سائبر آباد (حیدرآباد) پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں شنکر پلی کے ایک تعلیمی ادارے میں سینئر طلباء کی جانب سے ایک جونئر طالب علم کے خلاف نہایت سنگین ریاگنگ کی شکایت درج کروائی گئی۔ پولیس ملزموں کے خلاف قانون کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کرکے کارروائی کا آغاز کردیا۔
سوشیل میڈیا کے ذریعہ ریاگنگ کے اس واقعہ کا ویڈیو بھی خوب وائرل ہوگیا۔ جس میں ایک طالب علم کو دوسروں کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ساتھ ہی حملہ آور طلباء اپنے جونیئر طالب علم کو اللہ اکبر اور جئے ماتا دی کے مذہبی نعرے لگانے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔
آیئے اب ذرا تفصیل سے اس ریاگنگ کے واقعہ کا تجزیہ کرتے ہیں کہ آخر کیا واقعہ پیش آیا تو پتہ چلتا ہے کہ شہر حیدرآباد سے 37 کیلو میٹر دور واقع شنکر پلی میں ایک خانگی تعلیمی ادارہ واقع ہے جہاں پر BBA کے کورس میں زیر تعلیم ہیمانک بنسل کی اپنی کلاس میٹ لڑکی دیپشا کے ساتھ پہلے تو دوستی ہوتی ہے اور پھر جلد ہی یہ دوستی ٹوٹ بھی جاتی ہے۔ جب دیپشا کے ساتھ ہیمانک کی دوستی ختم ہوجاتی ہے تب مبینہ طور پر دیپشا ہیمانک کے ساتھ اس کی جو چیاٹنگ ہوئی تھی اس کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے کہ ہیمانک نے اپنی چیاٹنگ میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔
اب یہ واقعہ دوسرا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ مبینہ طور پر کالج کے سینئر طلباء اپنے جونئر کو سبق سکھلانا ضروری سمجھتے ہیں اور بلاکسی امتیاز کے ہندو اور مسلمان دونوں مل کر ہیمانک کے ساتھ مارپیٹ بلکہ تشدد پر اتر آتے ہیں اور اس دوران ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہیمانک پہلے تو جئے ماتا دی کا نعرہ لگاتا اور پھر اسی سانس میں اللہ اکبر بھی کہتا ہے۔
میڈیا کو وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں اپنے مطلب کی بات نظر آتی ہے اور وہ جئے ماتا دی کے نعرہ کو چھوڑ کر صرف ویڈیو کا وہ حصہ بتلانے لگتے ہیں جس میں ہیمانک اللہ اکبر کا نعرہ کا بلند کر رہا ہے۔ بس اور کیا چاہیے یہ خبر پل بھر میں خوب شیئر ہوجاتی ہے اور نفرت کے جذبات کو فروغ دینے کا سبب بن کر لوگوںکے ذہنوں میں زہر گھولنے کا کام کرتی ہے۔
قارئین کرام ایک مسلما ن نہ تو اپنی نبی ؐ کی شان میں گستاخی کے بارے میں تصور کرسکتا ہے اور نہ برداشت کرسکتا ہے۔یقینا کسی نے بھی نبی کی شان میں گستاخی کی تو اس کی باضابطہ طور پر پولیس میں شکایت درج کروائی جانی چاہیے نہ کہ قانون کو خود اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں تاریک کرنے کا کام کرنا چاہیے۔
ہیمانک کی سابقہ گرل فرینڈ دیپشا اپنے بوائے فرینڈ کو سبق سکھلانے کے لیے اس کے ساتھ ہوئی چیاٹنگ کو (واٹس ایپ) اپنے مسلم دوستوں تک بھیج کر انہیں ہیمانک کو مارپیٹ کا نشانہ بنانے کے لیے گویا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتی ہے۔
اب سائبر آباد پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے تو امید ہے کہ پولیس کی تحقیقات میں اس سارے واقعہ کی تفصیلات منظر عام پر آجائیں گی۔
قارئین شنکر پلی کے اس تعلیمی ادارے میں یہ جو مسلم طلباء پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی جان لیجئے کہ اس خانگی یونیورسٹی میں BBAکے تین سال کی فیس سات لاکھ دس ہزار روپئے ہے۔ یعنی جو مسلمان اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے لاکھوں کی فیس دے سکتے ہیں وہی اس تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ دنیا کی عصری تعلیم مہنگی ہے تو مسلمان اس کے حصول سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے اور دین کی بنیادی تعلیمات سے یہی مسلمان کس قدر ناواقف ہے کہ ایک لڑکی اپنے بوائے فرینڈ سے قطع تعلق کرلینے کے بعد اس کے ساتھ ہوئی چیاٹنگ کے چنندہ اسکرین شاٹس کو شیئر کر کے مسلم بچوں سے ہیمانک کی پٹوائی کرنے پر آمادہ کرلیتی ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں سورۃ النساء کی آیت نمبر (83)، سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 6 اور سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 36 میں خبر ملنے کے بعد خبر کی تصدیق کرنے، خبر کی تحقیق کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ ساتھ ہی احادیث مبارکہ میں اللہ کے پیارے نبی نے بے تحقیق باتوں کی اشاعت کو گناہ قرار دیا ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم مسلمان اپنے بچوں کو میڈیسن کی تعلیم دلوانے کے لیے اپنے ملک سے ہزاروں کیلومیٹر دور یوکرائن اور چین کو بھجوانے کے لیے تیار ہیں اور اس تعلیم کے حصول کے لیے لاکھوں کا خرچ کرنے آمادہ ہیں لیکن ہم مسلمان اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لیے گھر پر آنے والے مولوی صاحب ہوں یا مسجد کے مدرسہ کی فیس کتنی دیتے ہیں، غور کرلیں۔
اس رویہ سے مسلم قوم کی ترجیحات کا پتہ چلتا ہے کہ عصری تعلیم کے لیے ہم اپنا جی جان لڑا دیتے ہیں اور دین کی بات پر ہمیں اپنے تو چھوڑیئے غیر بھی آسانی سے استعمال کر رہے ہیں اور جس کام کو ہم اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھ رہے ہیں وہ دراصل دوسروں کے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔
آیئے ہم سب مل کر عہد کرتے ہیں کہ ہم احتساب کریں گے۔ کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا اور اپنے دامن میں خود ہی جھانکیں گے۔ اپنے گھر کی اپنی اولاد کی اور اپنے رشتہ داروں کی فکر کریں گے اور کم سے کم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے گھر میں ہمارے خاندان میں ہماری اولاد میں ہر شخص، ہر مسلمان قرآن کو پڑھتا بھی ہو، سمجھتا بھی ہو اور اس پر عمل بھی کرتا ہو۔
ہمارے بچوں کی دینی تربیت نہ تو مدارس میں صد فی صد ممکن ہے۔ نہ ہی یہ مولوی صاحب کی ذمہ داری ہے بچے ہمارے ہیں تو ان کی تربیت بھی ہماری ہی ذمہ ہے۔ یقینا بچوں کو عصری تعلیم دلوانا ضروری ہے لیکن اس سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی جڑوں سے جڑنے کا سامان فراہم کریں۔ یہ کوئی ذاتی مفاد اور جذباتی نعرہ نہیں بلکہ دردمندانہ اپیل ہے کہ اپنے بچوں کو اردو زبان و ادب سے جوڑیئے اور ماشاء اللہ سے اردو زبان و ادب میں اتنے سارے وسائل کتابوں کی شکل میں موجود ہے ای بکس ہیں، ویب سائٹس ہیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے بچے مذہب اسلام کی تعلیمات سے بھی جڑے رہ سکتے ہیں۔ ذرا دیکھئے آج شہر حیدرآباد کا کیا عالم ہوگیا ہے۔ سیرت النبی کے بڑے بڑے پروگرام ہو رہے ہیں، بڑے بڑے مقرر شہر میں تشریف لا رہے ہیں اور سبھی منتظمین اس بات پر پریشان ہیں کہ حاضرین اور سامعین کو کیسے لائیں، کہاں سے جوڑیں، نوجوان نسل تو موبائل سے جڑی ہے۔ سننے آتے بھی تو زبان کہاں سے سمجھ میں آتی ہے۔
ہندوستان میں دینی تعلیم آج بھی اُردو میں ہی آسان ہے اور جو زبان ہمارے بچے بول رہے ہیں افسوس کہ وہ اردو نہیں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ پھر طئے کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو نیک توفیق عطا فرمائے۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)
sarwari829@yahoo.com
۰۰۰٭٭٭۰۰۰