بین الاقوامی

آسٹریلیا میں نپاہ وائرس پر کڑی نظر: وزیر صحت

مسٹر بٹلر نے نائن نیٹ ورک ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اگرچہ آسٹریلیا میں ابھی تک نپاہ وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے، تاہم حکام اس وباء سے پیدا ہونے والے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جو دسمبر میں ہندوستان میں شروع ہوا تھا۔

کینبرا: آسٹریلیا کے وزیر صحت مارک بٹلر نے جمعہ کو کہا کہ حکومت ایشیا میں نپاہ وائرس کے پھیلنے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں
سڈنی کے ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر فائرنگ، 10 افراد ہلاک
اسرائیل میں ویسٹ نائل بخار سے مرنے والوں کی تعداد 31 ہو گئی
کابل میں افغانستان کے پہلے کینسر سنٹر کا افتتاح
پاکستانی ٹیم کبھی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے: میکسویل
سوشل میڈیا کے اثرات کی جانچ کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل


مسٹر بٹلر نے نائن نیٹ ورک ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اگرچہ آسٹریلیا میں ابھی تک نپاہ وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے، تاہم حکام اس وباء سے پیدا ہونے والے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جو دسمبر میں ہندوستان میں شروع ہوا تھا۔


انہوں نے کہا، "ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس وباء پر قابو پالیا ہے، لیکن ہم اب بھی اس کی بہت قریب سے نگرانی کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک بہت سنگین وائرس ہے۔”


انڈونیشیا کے حکام نے جمعرات کو بالی میں واقع آئی گستی نگوراہ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی سخت نگرانی شروع کردی ہے، جو آسٹریلیا کے مسافروں کے لیے سب سے زیادہ مقبول منزل ہے۔


مسٹر بٹلر نے جمعہ کو کہا کہ آسٹریلیا میں بیرون ملک سے آنے والے بیمار مسافروں کے لیے واضح پروٹوکول موجود ہیں اور حکومت کو ان پروٹوکول کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔


نپاہ وائرس ایک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں اور انسانوں کے درمیان پھیلتی ہے اور بعض صورتوں میں، انسان سے انسان کے رابطے کے ذریعے سے بھی پھیلتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس کی وبائی صلاحیت اور شدت کی وجہ سے اسے ترجیحی بیماری کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔