دہلی

عصمت ریزی کے مجرم کی درخواست رحم مسترد

صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے ایک شخص کی درخواست ِ رحم مسترد کردی ہے جسے مہاراشٹرا میں 2008 میں ایک 4 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے بعد اسے پتھروں سے کچل کر ہلاک کرنے کا مجرم قراردیا گیا ہے۔

نئی دہلی: صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے ایک شخص کی درخواست ِ رحم مسترد کردی ہے جسے مہاراشٹرا میں 2008 میں ایک 4 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے بعد اسے پتھروں سے کچل کر ہلاک کرنے کا مجرم قراردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
صدرجمہوریہ کی توہین دراصل پورے ملک کی توہین کے مترادف: چندرابابو
طاقت کے نشہ میں چور سرکش قوتیں مٹ جاتی ہیں، مسلمان تاریخ کے اوراق سے سبق لینا سیکھیں: مولانا حافظ پیر شبیر احمد
بھائی کے سامنے بہن کی عصمت ریزی، ملزمین گرفتار
دنیوی طاقت سے خوفزدہ ہونا جمعیۃ علماء کی فطرت نہیں : حافظ پیر خلیق احمد
ہم مصیبتوں پر یشانیوں اور برے وقت کے باوجود اللہ سے شکوہ کرنے کی بجائے ہر حال میں اس کا شکر ادا کریں: مولانا حافظ پیر شبیر احمد

راشٹرپتی بھون نے یہ بات بتائی۔ سپریم کورٹ نے 3 مئی 2017 کو وسنتا سمپت دوپارے (اُس وقت 55 سالہ) کی درخواست ِ نظرثانی مسترد کردی تھی اور اسے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

صدرجمہوریہ کے سکریٹریٹ کو جاریہ سال 28 مارچ کو مرکزی وزارت ِ داخلہ سے اس معاملہ میں ایک سفارش موصول ہوئی تھی۔

صدرجمہوریہ کے سکریٹریٹ کے مطابق 28 اپریل 2023 کو بتایا گیا کہ صدرجمہوریہ نے 10 اپریل کو درخواست ِ رحم مسترد کردی ہے۔