نہ تڑپنے کی اجازت نہ فریاد کی ہے

صوفی انیس دُرّانی
نہ تڑپنے کی اجازت نہ فریاد کی ہے
گھٹ کے مرجاو¿ں یہ مرضی میرے صیاد کی ہے
انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شریک شاعر، کوی اور صحافت کے سینکڑوں ستون بے خوف ہوکر انگریزی سرکارکے خلاف اپنی تخلیقات عوام کے سامنے لاتے تھے۔ یہ عمل کسی زبان تک محدودنہیں تھا بلکہ بھارت کی تمام علاقائی زبانوں میں ایسے تخلیق کارتھے جو اپنے قلمی حملوں سے انگریزی سرکارکو خوف زدہ کرنے کی طاقت رکھتے تھے ۔ ان میں سے بہت سے تخلیق کاروںنے( ہزاروں کی تعداد میں) جیلوںمیںقیدیں کاٹیں۔ کالے پانی کی خطرناک سزا بھگتی مگر انگریزوں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ اردو میں توکئی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں ایسے مجاہدتخلیق کاروں کے حالات بیان کئے گئے ہیں، لیکن بات کتنی مضحکہ خیز لگتی ہے کہ ایسے حکمرانوں نے جن کی جماعت نے کبھی بھارت کی تحریک آزادی میں حصہ نہیں لیا وہ کبھی اس تحریک آزادی کا حصہ نہیں بنے، وہ اس آزادی کے پھل یعنی بھارت کے آئین اور پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں کی تقریروں پر پابندی لگارہے ہیں ۔میں قارئین سے وضاحت کرتاچلوں کہ میرااشارہ پارلیمنٹ میں صرف مخصوص الفاظ پر لگنے والی نئی پابندیوں کی طرف ہے۔ حال ہی میں اسپیکر لوک سبھا کے دفتر سے ان الفاظ کی فہرست جاری کی گئی ہے جو پارلیمنٹ میں اب استعمال نہیں کیے جاسکتے ۔ یہ الفاظ اب غیر پارلیمانی الفاظ قرار دے دیے گئے ہیں۔ ملک کی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ۱۹۵۴ میں ایسی فہرست جاری کی گئی تھی جن میں استعمال شدہ الفاظ کا معزز ممبرپارلیمنٹ کے ذریعہ کی جانے والی تقریر کے حصہ کے طورپر اندراج کا اختیار اسپیکر لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیرمین کو تھا۔ تقریراور اس کی ادائیگی کے لب ولہجہ کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے اپنے ایوان میں اس بات کا فیصلہ کرتے تھے کہ لفظ مذکورہ تقریر میں شامل کیا جائے اس منظور لفظ کو تقریرکے متن سے خارج کردیا جائے، یہ کبھی ایشو نہیں بنایہاں تک کہ ایمرجنسی کے دورمیں بھی حزب مخالف کے رہنماو¿ں نے وزیراعظم اندراگاندھی کے خلاف بڑے سخت الفاظ استعمال کئے۔ مگر ایمرجنسی لگانے کے باوجودان میں جمہوری اسپرٹ زندہ تھی، انھوں نے اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا کہ ممبران پارلیمنٹ بے خوف ہراس بول سکیں۔
مگر ہماری موجودہ سرکار توملک کو آہستہ آہستہ فاشسزم کی راہ پر لے جارہی ہے تاکہ جب کھل کر ہندوراشٹربنانے کا کھیل شروع کرسکے توپارلیمنٹ کی زبان بندی ہوسکے۔ ان کا اصل نشانہ ملک کے سیکولرآئین کو بدلنا اورملک کی عدلیہ کو گھٹنوں کے بل بٹھانے کا ہے۔
اپنے شیطانی منصوبہ کو کامیاب کرنے کے لیے وہ ہرطرح سے پارلیمنٹ کا گھلا گھونٹ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے سبب ہی ان کے مذموم منصوبوں میں تاخیر ہورہی ہے۔ ایوان میں جب ممبرپارلیمنٹ کسی سوال کا جواب مانگتا ہے، کسی معاملہ پر حکومت کی وضاحت چاہتاہے، کوئی عوامی دلچسپی کا سوال اٹھاتاہے توحکومت ان کا تحریری جواب دینے کی پابندہوتی ہے، ایسا جواب جو سچائی پر مبنی ہواور ایسے اعدادوشمار کے جواب حکومت کے پاس ہی ہوتے ہیں، ان سوالات سے حکومت کی پول کھل جاتی ہے۔ حکومت کی لیپا پوتی بھی سامنے آجاتی ہے اب توحکومت کا رویہ یہ ہوتاجارہاہے کہ ممبران کم سے کم سوال کریں اور حکمراں ٹولے پر تنقید بالکل ہی نہ کریں۔ اسی لےے ممنوعہ الفاظ کی فہرست کو دوبارہ اضافہ کرکے حکومت پر کئے جانے والے حملوں کی دھارکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کی یہ بھی کوشش ہے کہ ایوان میں کم سے کم مباحث ہوں۔کم سے کم ممبران ایوان کی کارروائی میں شریک ہوں۔ تادم تحریر۲۳ممبران پارلیمنٹ ہاو¿س سے معطل ہیں۔تاکہ سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں اسی میں الجھی رہیں اور سنجیدہ قسم کی مباحث نہ ہوسکے۔ اپنے شیطانی منصوبے کو کامیاب کرنے کے لیے وہ ہرطرح سے پارلیمنٹ کا گلا گھونٹ رہے ہیں،کیوں کہ ان کے مذموم منصوبوں میں تاخیر ہورہی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوئی ہوگی کہ موجودہ فہرست میں جملہ جیوی، بدعنوان، نااہل جیسے الفاظ کو غیرپارلیمانی قرار دے دیا ہے۔ مودی جی دن بدن تانا شاہی یعنی آمریت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ عوام کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ بحیثیت وزیراعظم کے ہر قسم کی تنقید سے بالا تر ہیں۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت جملہ جیوی جیسے بے ضرر لفظ کو غیر پارلیمانی قرار دیناہے ۔ دراصل عوام میں وزیراعظم کی امیج ایسی بن گئی ہے جو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوام کو فیض پہنچانے اور ملک وقوم کے تحفظ کو لے کر بڑے بڑے دعوے کرتاہے، لیکن ان پر عمل درآمد ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس لیے اب وہ عوام میں جملے باز کہلائے جانے لگے ہیں۔ وزیراعظم کو جملہ جیوی کا لفظ بہت زیادہ کھل گیا اور انھوں نے متنوع الفاظ کی فہرست میں جملہ جیوی کو بھی ڈلوایا۔تاکہ عوام پارلیمنٹ میں ان کی وہ اصلیت نہ جان سکیں جو اپوزیشن ممبران ببانگ دہل بتاتے ہیں۔ ممنوع الفاظ کی ضخیم لغت لوک سبھااسپیکرکا دفتر جاری کرتاہے۔ ہر مرتبہ اس کی ضخامت میں اضافہ ہوتاجارہاہے، لیکن جملہ جیوی پر پابندی لگانے سے وزیراعظم بالکل برہنہ ہوگئے اور صاف ظاہرہوگیا کہ وہ اپنے خلاف کوئی تنقید سننے پر تیارنہیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان الفاظ کو ممنوع قرار دینے کی حد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں تک محدودہے۔ پارلیمنٹ ہو یاحکومت کے خلاف کوئی بھی جملہ بولنے کی آزادی ہے بشرطیکہ اس میں کوئی عام طورپر ناشائستہ لفظ استعمال نہ کیا گیا ہو۔ اب آپ اس پہلو سے بھی مضحکہ خیز الفاظ کی فہرست پرغور کریں توآپ کو احساس ہوگا کہ حکومت کے خلاف کی جانے والی تقاریر میں بے ایمانی، بدعنوانی، چوری سینہ زوری، خونی بزدلی آنسو توہین گدھا ڈراما غنڈہ گردی مگر مچھ کے آنسو منافقت نااہل گمراہ کن جھوٹ غدرکالا بازاری داداگیری فساد لالی پاپ وغیرہ الفاظ کو غیر پارلیمانی قرار دے دیا گیا ہے۔ اب حکومت پر یا اس کی کابینہ میں شامل وزیروں اور خودوزیراعظم کے خلاف کسی بھی قسم کا الزام ان ممنوع قرار دیے جانے والے الفاظ کے بغیر کیسے ہوسکتاہے۔ یہ الفاظ کو ممنوعہ قراردینے کی کارروائی آئین کے آرٹیکل (105)کے تحت پارلیمانی طریقہ کارچلانے کی شق اول 380کے تحت عمل میں آتی ہے جو الفاظ متنازعہ کو خارج کرنے سے متعلق ہے۔ اس رول کے تحت اگراسپیکر متنازعہ لفظ کو اس کے طرز استعمال کو ممنوعہ قرار دے کر اس ایوان کی کارروائی کے ریکارڈ سے خارج کرسکتاہے۔ اس کے بعد اس لفظ کو ممنوعہ الفاظ کی فہرست میں شامل کرلیا جاتاہے۔ جب ممنوع الفاظ کی فہرست بہت طویل ہوگئی توپارلیمانی طرز حکومت کے لگ بھگ پچاس سال کے بعدان ممنوعہ الفاظ کی ایک لغت تیار کی گئی۔ اس کے بعد پھر لگ بھگ دس سال کے بعد 2009میں ان ممنوعہ الفاظ کی لغت میں پھر اضافہ کرکے انھیں شائع کیا گیا اور 2014کے بعدسے اتنی تیزی کے ساتھ ممنوعہ الفاظ کی فہرست میں اضافہ ہورہاہے کہ مودی دے اور بندہ لے والا معاملہ ہوگیا ہے۔ اس معاملہ کا ایک پہلو تویہ ہے کہ ممبران کی تقاریرفن خطابت کے شاہکارنہ رہ کر چٹ پٹے کھانوں کی جگہ روکھا سوکھا پرہیزی کھانا بن جائے گا۔ کچھ الفاظ کا تواتنا طویل پس منظرہوتاہے کہ ان کا متبادل ڈھونڈنابھی تقریباناممکن ہے۔ مثلا فرقہ وارانہ فساد بھی اب ممنوعہ لفظ بن گیا ہے مگراب کوئی ممبرپارلیمنٹ اس لفظ کا کیا متبادل بنا سکتاہے۔ کیا کوئی فرد فرقہ وارانہ فساد کی جگہ ”دنگل ہوگیا“ کہہ کر کسی جگہ کے واقعہ کو بیان کرے توکیا اس سے فرقہ وارانہ فساد کا حقیقی مفہوم ادا ہوجائے گا۔ قطعی نہیں ہوسکتا۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان دنوں مختلف اسمبلیوں کے اسپیکرکا رول بھی غیر جانب دارانہ روش سے ہٹتا جارہاہے۔ آئینی طورپر اسپیکر اپنے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد کسی بھی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا تاکہ وہ ایوان کو غیر جانب داری سے چلاسکے، لیکن آہستہ آہستہ یہ غیرجانب داری کی روایت ختم ہورہی ہے۔ اس بات کا آخری فیصلہ اسپیکرکرتاہے کہ ایوان میں کسی پیش رفت کو یا کسی لفظ کو غیر پارلیمانی قرار دے۔ اب جب کہ اسپیکرکا باوقارعہدہ تنزل کاشکار ہونے لگے توپھر وہ آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے ایوان حکومت کے سامنے سرنگوں ہونے لگتاہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتاہے جو نئی ممنوعہ الفاظ کی فہرست کی شکل میں ہمارے سامنے لایا گیا ہے۔
اس نئی فہرست کے جاری ہونے کے بعد حسب اختلاف نے بہت بلند آواز میں اختلاف رائے کیا ہے۔ اس ساری تنقید کو سنناہی تواسپیکرکا کام ہے۔ انھوں نے اپوزیشن کو بہلانے کے لیے کہا کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تمام الفاظ بولے جاسکتے ہیں یہ ایک فضول بحث ہے کیوں کہ کسی بھی لفظ کا بیان وسیاق وسباق دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جاتاہے۔ صاحب تقریر کی نیت کیا ہے، اس پر انحصار کرنا چاہےے۔ اگر پارلیمانی طور پر ممنوع الفاظ کا استعمال ہی نہ کیا جائے توپھر پارلیمنٹ میں کوئی تقریر ہی نہیں ہوسکتی۔ جس لفظ یاجملہ کو اسپیکرصاحب غیر پارلیمانی محسوس کریں گے وہ اسے کارروائی سے خارج کردیں گے۔ یہ سراسر مودی جی کے خلاف ایوان میں اور ایوان سے باہر تنقید پرروک لگانے کی سازش ہے، جس میں اسپیکرصاحب کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ لیکن یہ عمل سراسر جمہوریت اورآئین میں ملے آزادی اظہار کے حق کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔ یہ جمہوریت پر پارلیمانی نقاب پہن کر حملہ کیا گیاہے جس کی بھارت کے تمام جمہورپسند شہریوں کو مخالفت کرنی چاہےے اور پارلیمانی نظام کو بچانے کے لیے عملی اقدام کرنے چاہےے۔
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
چاک قبا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
٭٭٭