بھارتسوشیل میڈیا

گیس سلنڈروں پر ملک بھر میں ہنگامہ، مرکزی حکومت کا بڑا اعلان

گیس سلنڈروں کی قلت کی خبروں کے بعد عوام میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ احتیاط کے طور پر اضافی سلنڈر بک کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور غیر ضروری بکنگ سے بچیں۔

نئی دہلی: ملک میں ایل پی جی گیس سلنڈروں کی ممکنہ کمی کو لے کر عوام میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان مرکزی حکومت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور شہری غیر ضروری طور پر گیس سلنڈر بک نہ کریں۔

متعلقہ خبریں
مرکز نے دیہی ترقی کیلئے اے پی کو بھاری فنڈس جاری کئے
دہشت گردی کا شکار طلبا کیلئے ایم بی بی ایس کی 4 نشستیں مختص
مرکزی حکومت کے تمام دفاتر 22 جنوری کو نصف یوم بند
آسام سے افسپا پوری طرح ہٹادینے مرکز سے سفارش
شہریوں کو بانٹنے اقتدار کا بیجا استعمال کرنے والے ملک دشمن: سونیا گاندھی

حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں گیس سلنڈروں کی قلت کی خبروں کے بعد عوام میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ احتیاط کے طور پر اضافی سلنڈر بک کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور غیر ضروری بکنگ سے بچیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر خام تیل اور ایل پی جی گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے بعض علاقوں میں گیس کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایک سرکاری عہدیدار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں روزانہ تقریباً 55 لاکھ بیرل خام تیل دستیاب ہے، جو موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

حکام نے مزید بتایا کہ اس عرصے میں عام طور پر آبنائے ہرمز کے راستے جتنا تیل اور ایل پی جی آتا ہے، اس کے مقابلے میں اس وقت زیادہ مقدار میں ذخائر موجود ہیں۔ حکومت کے مطابق ملک کی موجودہ طلب کو پورا کرنے کے لیے مناسب مقدار میں تیل اور ایل پی جی کی فراہمی جاری ہے۔

مرکزی حکومت نے عوام سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ نہ کریں، کیونکہ اس سے سپلائی کے نظام پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔