تلنگانہ

تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دلانے کیلئے کی گئی عام ہڑتال کے14برس مکمل،کے ٹی راما راو کاٹوئٹ

12 ستمبر 2011 کو بی آر ایس کے سربراہ کے سی چندرشیکھرراوکی اپیل پر تمام طبقات کے افراد تقریباً 42 دن تک پرامن احتجاج کرتے رہے۔ اس احتجاج نے اتنی شدت اختیار کی کہ دہلی میں مرکزی حکومت بھی حرکت میں آئی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کوریاست کا درجہ دلانے کیلئے کی گئی عام ہڑتال کے آج 14برس مکمل ہوگئے ہیں۔اس عام ہڑتال نے تلنگانہ ریاست کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

12 ستمبر 2011 کو بی آر ایس کے سربراہ کے سی چندرشیکھرراوکی اپیل پر تمام طبقات کے افراد تقریباً 42 دن تک پرامن احتجاج کرتے رہے۔ اس احتجاج نے اتنی شدت اختیار کی کہ دہلی میں مرکزی حکومت بھی حرکت میں آئی۔

تلنگانہ تحریک میں ایک تاریخی مقام رکھنے والی اس عام ہڑتال کو آج 14 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر بی آر ایس کے کارگزارصدر کے ٹی راما راونے ایک دلچسپ ٹویٹ کے ذریعہ یاد دہانی کروائی۔

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ تلنگانہ عوام میں خودمختار ریاست کی خواہش کو سب سے زیادہ واضح کرنے والی عظیم تحریک عام ہڑتال ہے۔ مختلف طبقات کے لوگ متحد ہو کر 42 دن تک پرامن احتجاج کرتے ہوئے تلنگانہ کی طاقت دہلی تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔

12 ستمبر 2011 کو کریم نگر میں عوامی جلسہ میں تحریک کے رہنما کے چندرشیکھرراوکی اپیل پر پورا تلنگانہ ایک ہو گیا۔ پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود تلنگانہ کے افرادریاست کے حصول کے لئے لڑتے رہے۔ عام ہڑتال کو آج 14 سال مکمل ہونے پر احتجاج میں شامل ہر شخص کا نام لے کر شکریہ ادا کرتا ہوں۔