شمالی بھارت

 مدھیہ پردیش مسجد کے اندر تراویح کی نماز ادا کر رہے 49 مسلم افراد کی گرفتاری وائرل ویڈیوز

بتایا جاتا ہے کہ نقاب پوش افراد مذہبی نعرے “جے شری رام” لگاتے ہوئے علاقے میں داخل ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپ عبادت گاہوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع سے جڑی ہوئی ہے۔ دوسری جانب مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ جن افراد نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگائی، مذہبی نعرے لگاتے ہوئے گھروں میں داخل ہوئے اور رقم لوٹی، ان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی

متعلقہ خبریں
مدھیہ پردیش میں 2فوجی جوانوں پر حملہ اور ساتھی کی عصمت ریزی واقعہ کی مذمت
’محرم جلوسوں میں فلسطینی پرچم لہرانے والوں کے خلاف کیسس واپس لئے جائیں‘
باپ اور بھائی کی قاتل 15 سالہ لڑکی گرفتار
ٹرین میں خاتون نے بچی کو جنم دیا، بوگی میں موجود خواتین نے ڈلیوری کرائی
کتے کے بچے کو ہلاک کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے (دردناک ویڈیو)

 ضلع جبل پور کے علاقے سیروہی کی رپورٹ جہاں اقلیتی برادری ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر حملہ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس کے دوران ان کے گھروں کو لوٹا گیا، توڑ پھوڑ کی گئی اور آگ لگا دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ نقاب پوش افراد مذہبی نعرے جے شری رام لگاتے ہوئے علاقے میں داخل ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

اطلاعات کے مطابق تشدد کے دوران نوکیلے ہتھیاروں اور آتش گیر مواد کا بھی استعمال کیا گیا۔مسلم خاندانوں کو ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان کے باوجود، رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کارروائی کے نتیجے میں بدامنی سے متعلق الزامات کے تحت 49 مسلم افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس صورتحال نے مقامی لوگوں میں تشدد کی نوعیت اور بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سنگین خدشات اور سوالات پیدا کر دیے ہیں۔