سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے اغوا ہونے والا 5 سالہ نکھل بحفاظت بازیاب، ملزم گرفتار
پولیس کے مطابق، 20 جون کی رات نکھل اپنی والدہ کے ساتھ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر سو رہا تھا، جب ایک شخص موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بچے کو اپنے ساتھ لے گیا۔ واقعے کے بعد ریلوے پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔
حیدرآباد: سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے اغوا ہونے والا پانچ سالہ بچہ نکھل تقریباً دو ہفتوں بعد بحفاظت بازیاب کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ایک ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق، 20 جون کی رات نکھل اپنی والدہ کے ساتھ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر سو رہا تھا، جب ایک شخص موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بچے کو اپنے ساتھ لے گیا۔ واقعے کے بعد ریلوے پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔
تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج میں نکھل کو ایک شخص کے ساتھ ہاتھ پکڑے جاتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد پولیس نے ملزم کی تلاش کے لیے اپنی کارروائی تیز کر دی۔
پولیس کے مطابق جمعرات کی شام ملزم خود بچے کے ساتھ پولیس کے سامنے پیش ہوا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں اس نے دعویٰ کیا کہ نکھل اسے 30 جون کو ملا تھا، تاہم سخت تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ اسی نے بچے کو ریلوے اسٹیشن سے اغوا کیا تھا۔
بچے کی شناخت کی تصدیق کے لیے پولیس نے ویڈیو کال کے ذریعے نکھل کے اہل خانہ سے رابطہ کیا۔ شناخت مکمل ہونے کے بعد بچے کو بحفاظت اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا، جس پر اہل خانہ نے راحت کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔
ریلوے پولیس نے ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 137 کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے مزید تفتیش جاری ہے۔