مذہب

کربلا کا پیغام صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے کردار سازی کا سرچشمہ ہے

پؓ نے میدانِ کربلا میں اپنے اہلِ بیت اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ ایسی بے مثال قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک حق پرستی، صبر، استقامت اور دین کی سربلندی کی علامت بن گئی

 پل قدیم حیدرآباد میں منعقدہ سالانہ طرحی مسالمہ سے پیرِ طریقت حضرت مولانا الحاج سید شاہ درویش محی الدین قادری کا خطاب

حیدرآباد۔ (  پریس نوٹ) نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ حضرت علیؓ و حضرت فاطمۃ الزہراؓ، حضرت امام حسینؓ کی عظیم شہادت کو یاد کرنا اپنے ایمان کو تازہ کرنے کا ایک ذریعہ ہےحضرت امام حسینؓ نے ظلم، جبر اور باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق اور سچائی کا راستہ اختیار کیا۔

آپؓ نے میدانِ کربلا میں اپنے اہلِ بیت اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ ایسی بے مثال قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک حق پرستی، صبر، استقامت اور دین کی سربلندی کی علامت بن گئی۔ان خیالات کا اظہار  پیرِ طریقت حضرت مولانا الحاج سید شاہ درویش محی الدین قادری مدظلہ المعروف مرتضیٰ پاشاہ نے کیا وہ کل شب عرسِ شریف حضرت سید شاہ پیر محی الدین قادری مرشد پاشاہ صاحب کے ضمن میں منعقدہ سالانہ طرحی مسالمہ بیادِ سید الشہداء حضرت امام حسین بن علی ابنِ ابی طالبؓ سے بحثیت صدر مخاطب تھے۔

انہوں نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امام حسینؓ کی شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ مسلمان کبھی باطل کے سامنے جھکتا نہیں، بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا، عدل، انصاف اور سچائی پر قائم رہتا ہے۔ کربلا کا پیغام صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ہدایت اور کردار سازی کا سرچشمہ ہے۔

 خضرِ ملت الحاج سید شاہ مرتضیٰ محی الدین قادری مدظلہ  المعروف خضر پاشاہ کے زیرِ عاطفت منعقدہ اس مسالمہ کے مہمانِ خصوصی پیرِ طریقت حضرت الحاج مولانا سید شاہ میحمد رفیع الدین رضوی قادر شرفی مدظلہ سجادہ نشین شرفی چمن  تھے۔بارگاہ حضرت موسیٰ قادری رحمة اللہ پل قدیم حیدرآبادکے احاطہ میں آراستہ اس مشاعرہ کی نظامت  شاعرِ دکن جناب ارشؔد شرفی نے بحسن و خوبی فرائض انجام دئے۔

حضرت سید شاہ محمد رفیع الدین شرفی ،شاعرِ خلیج جلیل نظامی، شاعرِ دکن ارشد شرفی، قاری انیس احمد ، ممتاز شاعر و صحافی سعد الله خان سبیل ،شرف الدین ارشد،ثنا الله انصاری وصفی، ڈاکٹر اخلاق شرفی ، سید ماجد خلیل ، ابراھیم خان ایاز، نور الدین امیر ، یوسف قدیر ،سید مصطفیٰ علی ،قاضی عظمت الله جعفری,سراج یعقوبی ,مفتی اختر ضیا ، شمشیر عالم شمس ابوالعلائی ،سلیمان عبدالقدیر اعتبار،عبدالرشید ارشد، نجیب احمد نجیب ، رفیق جگر، عبد القیوم علیم ،سہیل وارثی و دیگر نے طرحی سلام بحضور سید الشہداء میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔

 جبکہ سید ابراھیم پاشاہ نے بہت ہی مرصع و مرتفع سلام بحضور سید الشہداء پیش کیا ۔سجادہ نشین حضرت مرتضیٰ پاشاہ کی رقت انگیز دعا پر رات دیر گئے یہ مشاعرہ اختتام پذیر ہوا ۔ اس موقع پر باذوق سامعین ، متعقدین و مریدین کے کثیر تعداد موجود تھی۔