ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس: خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ، 50 وکلاء نے وزیر اعلیٰ کو عرضداشت پیش کی
تلنگانہ ہائی کورٹ کے ممتاز وکلاء، تلنگانہ بار کونسل کے اراکین اور نامزد سینئر ایڈوکیٹس سمیت تقریباً 50 وکلاء نے ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس کی تیز رفتار اور مؤثر تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کو ایک عرضداشت بھی پیش کی گئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ کے ممتاز وکلاء، تلنگانہ بار کونسل کے اراکین اور نامزد سینئر ایڈوکیٹس سمیت تقریباً 50 وکلاء نے ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس کی تیز رفتار اور مؤثر تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کو ایک عرضداشت بھی پیش کی گئی۔
بدھ کو میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء نے کہا کہ قتل کیس کی شفاف اور مؤثر تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ایک خصوصی تحقیقاتی افسر مقرر کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضمانت کی درخواستوں، دیگر متفرق مقدمات اور ٹرائل کی کارروائی کے لیے بھی ایک خصوصی پبلک پراسیکیوٹر کا تقرر کیا جائے، جبکہ مقتول کے فرزند کی جانب سے پہلے سے داخل درخواستوں پر بھی جلد کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پریس کانفرنس سے مقتول کے فرزند ثناء اللہ فرحان، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ مرزا نثار بیگ، وی۔ راگھوناتھ، پشم سجاتھا اور اے۔ وشنو وردھن ریڈی نے خطاب کیا۔
وکلاء نے مطالبہ کیا کہ اس مقدمے میں مفرور تین ملزمان عابد، منیر اور چاؤش کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے تاکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ محبوب عالم خان کے زیر انتظام تمام اوقافی جائیدادوں، خصوصاً انوارالعلوم کالج، ممتاز کالج، مدرسہ عزیزہ اور دیگر اوقافی املاک میں مبینہ بے ضابطگیوں، اوقافی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور غیر قانونی قبضوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔
وکلاء نے تجویز پیش کی کہ مذکورہ تحقیقات کسی ریٹائرڈ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں انجام دی جائیں تاکہ شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے وکلاء نے حکومت سے اوقافی املاک کو مبینہ قبضہ مافیا سے محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوقاف کی آمدنی کے مبینہ غلط استعمال کے نتیجے میں ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین کے قتل جیسے سنگین واقعہ نے جنم لیا، اس لیے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہے