تلنگانہ

ٹی جی آر ای آر اے کا اہم فیصلہ، برسوں بعد پلاٹ کی صفائی کا مطالبہ بلڈر پر عائد نہیں کیا جا سکتا

یہ فیصلہ گوپی شیٹی سرینواس کی جانب سے دائر کی گئی ایک شکایت پر سنایا گیا۔ شکایت گزار نے سال 2018 میں میڈچل-ملکاجگری ضلع کے دیویریامزل گاؤں میں واقع ایک رہائشی پلاٹ خریدا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ پلاٹ میں بجلی کی بنیادی سہولت دستیاب نہیں تھی، جبکہ چٹانوں، جھاڑیوں اور درختوں کی موجودگی کے باعث وہاں گھر کی تعمیر ممکن نہیں ہو رہی تھی۔

حیدرآباد: تلنگانہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ٹی جی آر ای آر اے) نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر کوئی خریدار کئی سال بعد اپنے پلاٹ پر موجود چٹانوں، جھاڑیوں یا قدرتی طور پر اگنے والے درختوں کی صفائی کا مطالبہ کرے تو اس کے لیے بلڈر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

یہ فیصلہ گوپی شیٹی سرینواس کی جانب سے دائر کی گئی ایک شکایت پر سنایا گیا۔ شکایت گزار نے سال 2018 میں میڈچل-ملکاجگری ضلع کے دیویریامزل گاؤں میں واقع ایک رہائشی پلاٹ خریدا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ پلاٹ میں بجلی کی بنیادی سہولت دستیاب نہیں تھی، جبکہ چٹانوں، جھاڑیوں اور درختوں کی موجودگی کے باعث وہاں گھر کی تعمیر ممکن نہیں ہو رہی تھی۔

سماعت کے دوران بلڈر کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خریدار نے پلاٹ خریدنے سے قبل خود اس کا معائنہ کیا تھا اور اسی حالت میں اسے قبول کیا تھا۔ کمپنیوں نے یہ بھی کہا کہ پلاٹ کا قبضہ رجسٹری کے وقت ہی خریدار کے حوالے کر دیا گیا تھا، جبکہ شکایت تقریباً سات برس بعد درج کی گئی، اس لیے اس دوران پیدا ہونے والی قدرتی صورتحال کے لیے بلڈر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

تمام ریکارڈ اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ٹی جی آر ای آر اے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جائیداد خریدنے سے پہلے اس کا معائنہ کرنا خریدار کی ذمہ داری ہے۔ اتھارٹی نے مزید کہا کہ کئی برس بعد قدرتی طور پر اگنے والے درختوں، جھاڑیوں یا دیگر نباتات کی صفائی پلاٹ کے مالک کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ بلڈر کی۔

اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ متعلقہ رہائشی منصوبے کو حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ایم ڈی اے) کی جانب سے حتمی منظوری حاصل ہو چکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ منصوبہ قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا گیا تھا۔

تاہم ٹی جی آر ای آر اے نے بجلی کی فراہمی کو ہر رہائشی کالونی کی بنیادی سہولت قرار دیتے ہوئے بلڈر کو ہدایت دی کہ اگر منصوبے میں مطلوبہ الیکٹریکل ٹرانسفارمر تاحال نصب نہیں کیا گیا ہے تو اسے 45 دن کے اندر نصب کیا جائے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا کہ ہدایت پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ریئل اسٹیٹ (ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ) ایکٹ، 2016 کی دفعہ 63 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ٹی جی آر ای آر اے نے شکایت کے دیگر تمام مطالبات مسترد کرتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا۔