یوکرینی حملوں کے بعد روس میں ایندھن کا بحران، بھارت سے پیٹرول درآمد کرنے پر غور
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین کی جانب سے روسی تیل ریفائنریوں پر مسلسل حملوں کے نتیجے میں روس کو ایندھن کے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر روس اپنی اندرونی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھارت سے پیٹرول درآمد کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔
ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین کی جانب سے روسی تیل ریفائنریوں پر مسلسل حملوں کے نتیجے میں روس کو ایندھن کے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر روس اپنی اندرونی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھارت سے پیٹرول درآمد کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یوکرینی حملوں کے باعث روس کی متعدد تیل ریفائنریاں متاثر ہوئی ہیں، جس سے تیل کی پراسیسنگ اور ایندھن کی سپلائی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور بعض مقامات پر ایندھن کی راشن بندی بھی کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، پیٹرول کی کمی کے باعث مختلف شہروں میں شہریوں کو پیٹرول پمپوں پر طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ایندھن کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں، جس سے عام شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یوکرینی حملوں کے باعث ریفائنریوں کی پیداوار متاثر ہوتی رہی اور سپلائی کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی تو روس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھارت سے پیٹرول درآمد کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
تاہم، اس معاملے پر روسی حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔