حیدرآباد

بنڈلہ گوڑہ جاگیر میں اکسپائرڈ انجکشن دینے سے 6 ماہ کے معصوم بچہ کی موت

متاثرہ خاندان نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ اسپتال کے ڈاکٹروں کی سنگین لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ افراد خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی فوری اور منصفانہ جانچ کریں اور قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے بنڈلہ گوڑہ جاگیر، سن سٹی علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر اکسپائرڈ انجکشن دیے جانے کے باعث 6 ماہ کے ایک معصوم شیر خوار بچے کی موت ہوگئی۔ بچے کی شناخت رَامو کے طور پر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
بین الاقوامی یومِ مادری زبان کے موقع پر ممتاز لسانی ماہرین کو اعزازات
ڈی جے ایس کے زیرِ اہتمام رمضان اجتماع اور افطارِ عام، مغل پورہ میں انعقاد
کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کیلئے قرآن فہمی اور سیرتِ نبویؐ کا عملی مطالعہ ناگزیر: ڈاکٹر محمد قطب الدین
اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج ، نامپلی۔ حیدرآباد میں ”عالمی یوم مادری زبان “ کا انعقاد
حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزھراءؓ اصل اور نسل ہر دو لحاظ سے پاکیزہ، آپ کی سیرت خواتین امت کے لئے مشعل راہ: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی

تفصیلات کے مطابق رَامو کو تیز بخار ہونے پر اس کے والدین علاج کے لیے قریبی کریانس ہاسپٹل لے گئے تھے۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اسپتال میں موجود ڈاکٹروں نے بچے کو میعاد ختم شدہ دوائیں دیں۔ دوائیں دیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد بچے کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ دم توڑ گیا۔

متاثرہ خاندان نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ اسپتال کے ڈاکٹروں کی سنگین لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ افراد خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی فوری اور منصفانہ جانچ کریں اور قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد نے اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، کیس درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مکمل جانچ جاری ہے۔