شمالی بھارت

قومی شاہراہ پر مبینہ طور پر مسلمانوں کے لیے سڑک نہیں کا پیغام تحریر

حالانکہ ہندوستان کو لوٹ کر فرار ہونے والوں میں کوئی بھی مسلمان شامل نہیں ہے

حالانکہ ہندوستان کو لوٹ کر فرار ہونے والوں میں کوئی بھی مسلمان شامل نہیں ہے

اترپردیش : میں ایک قومی شاہراہ پر مبینہ طور پر “Road Not for Muslims” (مسلمانوں کے لیے سڑک نہیں) کا پیغام تحریر کیے جانے کے واقعے نے شدید تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ یہ تحریر مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیم Hindu Raksha Dal (ایچ آر ڈی) کے بعض کارکنان کی جانب سے سڑک کے کنارے پینٹ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔


واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو گئیں، جس پر مختلف طبقوں اور سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ ناقدین نے اس عمل کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


اس معاملے پر ایچ آر ڈی کے صدر Pinky Chaudhary نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ جن افراد کو وہ “جہادی” کہتے ہیں، وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس لیے انہیں قومی شاہراہ استعمال کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے اس بیان نے تنازع کو مزید ہوا دے دی ہے اور قانونی و آئینی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔


دوسری جانب، انسانی حقوق کے کارکنان اور اقلیتی تنظیموں نے اس بیان اور تحریر کو آئینِ ہند کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہیں عوامی ملکیت ہوتی ہیں اور کسی مخصوص مذہب یا طبقے کو ان کے استعمال سے روکنا غیر قانونی اور امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔


تاحال مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق واقعے کی جانچ کی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ عوام اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر نہ ہو

متعلقہ خبریں
پولیس کی موجودگی میں وکیل کو دفتر میں گھس کر گولی مار دی گئی