قانونی مشاورتی کالم

ایک شخص بھی شروع کر سکتا ہے اپنا کاروبار، جانئے قانونی طریقہ

نیا کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے پروپرائٹر شپ، پارٹنرشپ، ایل ایل پی اور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کاروبار کی نوعیت، سرمایہ کاری اور ذمہ داریوں کے اعتبار سے کونسا طریقہ بہتر ہے؟ جانئے رجسٹریشن کے قانونی تقاضے اور اہم امور۔

سوال : میں ایک کاروبار کا آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں مختلف لوگ متعدد اقسام کے مشورے دے رہے ہیں۔ کاروبار کے لئے کس طرح رجسٹریشن کروانا چاہئے۔ بزنس کے لئے قانونی موقف کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک پروپرائٹر شپ اور پارٹنر شپ میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کونسا کاروبار اور کس نوعیت کے کاروبار کا مجھے آغاز کرنا چاہئے۔ میرے لئے کونسا کاروبار مفید رہے گا۔ اس سلسلہ میں تفصیلی مشورہ دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب: دیکھئے ! کوئی بھی کاروبار اگر کوئی ایک فرد یا شخص چلاتا ہے تو اس کو پروپرائٹر شپ کہتے ہیں۔ پروپرائٹر شپ کے لئے کوئی الگ یا علیحدہ سے رجسٹریشن کی ضرورت درکار نہیں ہوتی ہے۔ پروپرائٹر شپ کے لئے بلدیہ اور لیبر ڈپارٹمنٹ سے اجازت حاصل کی جاتی ہے اور سرٹیفکیٹ کے حصول کے بعد کوئی بھی کاروبار کا آپ آغاز کر سکتے ہیں۔

اگر آپ اشیائے خوردونوش یا کھانے پینے کی اشیاء کا کاروبار کرناچاہتے ہیں تو پھر آپ کو ایف ایس ایس اے آئی ( دی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹانڈرڈس اتھاریٹی آف انڈیا )سے لائسنس کا حصول ضروری ہوتا ہے۔ لائسنس کےحصول کے بعد بلدیہ ، لیبر اور فائر ڈپارٹمنٹ سے ضروری اجازت نامے لیتے ہوئے ایک شخص یا فرد بھی پروپرائٹر شپ کا آغاز کر سکتا ہے۔

ایک اور کاروبار کا طریقہ کار ہے جس کو پارٹنرشپ فرم کہتے ہیں۔ ایک پارٹنرشپ ایکٹ ہے جس کے تحت آپ کو رجسٹریشن کروانا پڑتا ہے۔ پارٹنرشپ فرم یعنی اپنے بزنس فرم کا جو بھی نام ہے۔ اس نام کا پارٹنرشپ ایکٹ 1932 کے تحت رجسٹریشن کروانا پڑتا ہے اور پارٹنرشپ فرم بنانے کے لئے کم سے کم دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ 25 پارٹنرس ہوسکتے ہیں۔

اس پارٹنرشپ کو پارٹنرشپ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کروانا پڑتا ہے۔ فرم کا رجسٹریشن ہونے کے بعد ہی باقی کے کاموں کا آپ آغاز کر سکتے ہیں۔ پارٹنرشپ فرم میں اگرکاروبار میں نفع یا نقصان ہوتا ہے تو تمام پارٹنرس کے درمیان میں مساوی یا جو پرسنٹیج کے لحاظ سے شامل ہوئے ہیں اس کے مطابق تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے۔

پارٹنرشپ میں نقصان اور فائدے ہر دو کی ذمہ داری برداشت کرنی پڑتی ہے۔ ایک اور پارٹنرشپ کی نوعیت کا بزنس بھی ہوتا ہے جس کو ہم ایل ایل پی’’ لیمیٹڈ لائبلٹی پارٹنرشپ‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں کاروبار میں کوئی بھی نقصان ہوتا ہے تو پارٹنرس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے ۔ یہ ایک بہترین قسم کا کاروباری نظام ہے اور یہ دنیا میں بہت زیادہ مشہور ہے۔ ہندوستان میں لمیٹڈ لائبلٹی پارٹنرشپ کے تحت اگر کوئی بھی کاروبار کا آغاز کرتے ہیں تو اس سلسلہ میں ایل ایل پی ایکٹ موجود ہے۔

یہ ایک علیحدہ قانون ہے۔ جسے لمیٹڈ لائبلٹی پارٹنرشپ ایکٹ کہا جاتا ہے اور اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کروانا پڑتا ہے۔ اس میں ایک شرط یہ ہے کہ کم سے کم دو پارٹنرس ہونے چاہئیں اور زیادہ سے زیادہ پارٹنرس کی اس میں کوئی حد مقرر نہیں ہے جیسا کہ پارٹنرشپ فرم میں زیادہ سے زیادہ 25 پارٹنرس کی حد مقرر ہے تاہم لمیٹڈ لائبلٹی پارٹنرشپ میں پارٹنرس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اس میں آپ جتنے چاہیں، اتنے پارٹنرس شامل کر سکتے ہیں۔

دنیا میں ایک اور کامیاب اور بڑا کاروباری نظام کمپنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بھی شروع کر سکتے ہیں۔ کمپنی بنا کر بھی آپ اپنی مرضی کے مطابق کوئی بھی کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کوئی کمپنی بنانا چاہ رہے ہیں تو آپ کو کمپنی ایکٹ 2013 کے تحت اپنی کمپنی کا رجسٹریشن کروانا پڑے گا۔ کمپنی میں جو بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان کو ڈائرکٹرس کہا جاتا ہے۔ آپ کم از کم دو ڈائرکٹرس پر مبنی کمپنی بنا سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ آپ 200 ڈائرکٹرس رکھ سکتے ہیں۔

کمپنی ایکٹ 2013 کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ شیئر مارکیٹ میں شامل ہوتے ہوئے عوام سے ایکویٹیز، شیئرس کے ذریعہ فنڈ حاصل کر سکتے ہیں اور ان پیسوں سے آپ بزنس کرسکتے ہیں۔ کمپنیز جو بڑے بڑے کاروبار کرتی ہیں وہ کمپنی ایکٹ کے تحت ہی اپنے کاروبار کو رجسٹریشن کرواتی ہیں اور اپنے کاروبار کو شیئر مارکیٹ تک لے جانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ اپنے کاروبار کو تقویت دے سکیں۔ یہ ایک کامیاب طریقہ کار ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ آپ کسی بھی قسم یا نوعیت کے کاروبار کا آغاز کریں۔ آپ کو قواعد و ضوابط کی تعمیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ قواعد و ضوابط یعنی وقت مقررہ پر انکم ٹیکس کی ادائیگی، آڈٹ کروانا، ان کمنگ اور آؤٹ گوئنگ اخراجات کی بک کو مینٹین کرنا یا بک کیپنگ ودیگر کو انجام دینا پڑتا ہے۔ آپ کوئی بھی کاروبار کریں تاہم کاروبار کے پیمانے کے لحاظ سے اور کاروبار کی نوعیت کے حساب سے آپ کس سانچہ میں ڈھلتے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کاروبار کا آغاز کریں اور رجسٹریشن کروائیں۔