ڈیولپمنٹ اگریمنٹ پر پڑوسیوں میں اختلاف
آپ جس طرح اپنی جائیداد کے مالک ہیں۔ اسی طرح آپ کا پڑوس بھی اس کی اپنی جائیداد کا مالک ہے۔ آپ کو پورا اختیار ہے کہ آپ اپنی جائیداد کے تعلق سے جو چاہیں وہ فیصلہ کریں۔
سوال : میرا مکان 217 گز کا ہے۔ ہمارے پڑوسی صاحب کا مکان 100گز کاہے۔ ہمارے پڑوسی صاحب کے برادر نسبتی بروکر ہیں۔ وہ لوگ ہماری جائیداد کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ وہ لوگ کہتے تھے آپ صرف ہاں کیجئے۔ دو آپ کے، چھ ہمارے، چھ یعنی کسی بلڈر صاحب سے معاہدہ کرانا چاہتے تھے۔ ہم راضی نہیں ہوئے۔ ہماری تین بیٹیاں ہیں اور تین بیٹے ہیں۔
ہمارے بیٹے صاحب بلڈر صاحب سے تعمیر کے سلسلہ میں بات شروع کئے۔ ہمارے پڑوسی صاحب کو اطلاع ہو گئی۔ وہ لوگ ہمارے سے کہنے لگے۔ ہم کو بھی ملا لو۔ ہمارا فائدہ کرو۔ ہم بات کرنے کے لئے راضی تھے لیکن وہ لوگ بلڈر صاحب سے مل کر علیحدہ معاہدہ کر لئے ہیں۔ یہ کہاں تک درست ہے۔
ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کی جائیداد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے لیکن معاہدہ تیسرے آدمی سے کرتا ہے یعنی کہ بلڈر صاحب سے معاہدہ کرتا ہے۔ یہ کہاں تک درست ہے۔کیا ایسا معاہدہ کرنے کا ہندوستانی قانون اجازت دیتا ہے۔ کیاایسا معاہدہ کرنے کا اسلامی قانون اجازت دیتا ہے۔ میں تین بیٹیوں اور تین بیٹوں کے شرعی حقوق نہیں دے پا رہا ہوں۔ برائے کرم مہربانی فرماکر میرے سوال کا جواب دیں۔
جواب : آپ جس طرح اپنی جائیداد کے مالک ہیں۔ اسی طرح آپ کا پڑوس بھی اس کی اپنی جائیداد کا مالک ہے۔ آپ کو پورا اختیار ہے کہ آپ اپنی جائیداد کے تعلق سے جو چاہیں وہ فیصلہ کریں۔ آپ چاہیں تو اپنی جائیداد کو ڈیولپ کر سکتے ہیں۔ گھر بنا سکتے ہیں یا کسی کو فروخت کر سکتے ہیں۔ آپ کے پڑوسی کو بھی اس کی جائیداد کے تعلق سے یہی اختیارات حاصل ہوں گے۔
ہاں اگرایک دوسرے کو فروخت کرنا چاہ رہے ہیں تو پڑوسی ہونے کے ناطے خرید و فروخت کے معاملہ میں ایک دوسرے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔اس کو لاء آف پری ایمشن Law of pre emption کہتے ہیں تاہم جیسا کہ آپ کا کہنا ہے کہ آپ کے پڑوسی نے پہلے ڈیولپمنٹ کا وعدہ کیا۔ پھر بعد میں ڈیولپمنٹ سے مکر گئے۔ پھر آپ علحدہ طور پر بلڈر سے ربط قائم کئے لیکن آپ کے پڑوسی نے علیحدہ رخ اختیار کیا۔
اس معاملہ میں کوئی تحریری دستاویزات تو موجود نہیں ہوں گے اور بغیر تحریری دستاویزات کے کوئی بھی معاملہ کو آپ عدالت میں ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔ بغیر دستاویزات کے عدالت میں کوئی بھی معاملہ کو ثابت کرنے کے لئے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ نے پوچھا ہے کہ آپ کے پڑوسی نے جوحرکت کی ہے۔ کیا وہ قانون کے مطابق صحیح ہے۔ تو ہم یہی کہیں گے کہ قانون کے مطابق کوئی بھی معاملہ صحیح ہے یا نہیں ہے۔
اس کا فیصلہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ فیصلہ کرنے کے لئے ثبوت درکار ہوتے ہیں اور ثبوت کی بنیاد پر عدالتیں ہی فیصلے کر سکتی ہیں بشرطیکہ معاملہ عدالت تک پہنچے۔ آپ نے پوچھا کہ شرعی طور پر کیا پڑوسی کا رویہ درست ہے۔ شریعت کے مطابق پڑوسی کا رویہ صحیح ہے یا غلط ہے۔ اس کا فیصلہ بھی اعمال کی بنیاد پر آخرت میں ہوگا۔ آپ جو چیز چاہتے تھے۔ وہ نہیں ہو سکی۔
آپ کے پڑوسی نے اگر آپ کو دھوکہ دیا ہے تو دھوکہ دہی کو ثابت کرنے کے لئے دنیاوی قانون کے لحاظ سے ثبوت کی ضرورت ہوگی اور اگر شریعت کی بات کی جائے تو دلوں کا حال جاننے والا پروردگار عالم ہے۔ اگر کسی نے زیادتی کی ہے۔ اگر کسی نے گناہ کیا ہے تو پھر اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایک دوسرے پر کوئی زور یا زبردستی نہیں ہے۔