مہاراشٹر کی سیاست میں چونکا دینے والا اتحاد، سیاسی مجبوری یا سیاسی مفاد، بی جے پی اور مجلس ایک ساتھ!
مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں نظریات پیچھے اور اقتدار آگے نظر آ رہا ہے۔ انتخابی جلسوں میں جو پارٹیاں ایک دوسرے کو سب سے بڑا دشمن بتاتی ہیں، وہی اقتدار کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں نظریات پیچھے اور اقتدار آگے نظر آ رہا ہے۔ انتخابی جلسوں میں جو پارٹیاں ایک دوسرے کو سب سے بڑا دشمن بتاتی ہیں، وہی اقتدار کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔
عوام کے سامنے سخت بیانات، الزامات اور نعرے بازی ہوتی ہے، مگر پردے کے پیچھے ایسی سیاسی جوڑ توڑ ہوتی ہے جس کا عام ووٹر کو اندازہ تک نہیں ہوتا۔
حالیہ بلدیاتی سیاست میں سامنے آنے والے اتحادوں نے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ ایک طرف امبرناتھ میونسپل کونسل میں کانگریس کے منتخب کونسلرس نے بی جے پی کی حمایت کر کے شیوسینا (شندے گروپ) سے اقتدار چھین لیا، تو دوسری طرف اکوت میں بی جے پی نے اسدالدین اویسی کی قیادت والی اے آئی ایم آئی ایم کے کونسلرس کے ساتھ ہاتھ ملا کر سب کو چونکا دیا۔
اکوت میونسپل کونسل میں بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل نہیں تھی۔ 35 رکنی کونسل میں گزشتہ ماہ ہوئے انتخابات میں بی جے پی کو صرف 11 نشستیں ملی تھیں، اس کے باوجود پارٹی نے سیاسی حکمت عملی کے تحت اکوت وکاس منچ کے نام سے ایک نیا محاذ قائم کیا اور عددی طاقت پوری کرتے ہوئے بی جے پی کی مایا دھولے کو صدر منتخب کرا دیا۔
سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب بی جے پی کی سخت مخالف سمجھی جانے والی جماعت اے آئی ایم آئی ایم کے پانچ کونسلرس نے بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کی حمایت کر دی۔
نظریاتی طور پر بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم ایک دوسرے کے بالکل برعکس سمجھے جاتے ہیں، اسی لیے یہ اتحاد کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
ادھر امبرناتھ میونسپل کونسل میں کانگریس کو بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے پر کانگریس قیادت نے اپنے 12 نومنتخب کونسلرس کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اے آئی ایم آئی ایم بھی اپنے کونسلرس کے بی جے پی کے ساتھ جانے پر کوئی سخت قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔
امبرناتھ کی سیاسی صورتحال پر نظر ڈالیں تو 60 رکنی میونسپل کونسل میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، جس کے پاس 27 نشستیں تھیں۔
بی جے پی کو 14، کانگریس کو 12، اجیت پوار کی این سی پی کو 4 نشستیں ملیں، جبکہ 3 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
تاہم بی جے پی نے کانگریس، این سی پی اور دو آزاد کونسلرس کے ساتھ اتحاد کر کے 32 نشستوں کی اکثریت حاصل کر لی اور صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔ اس طرح شیوسینا (شندے گروپ) ایک آزاد رکن کی حمایت کے باوجود 28 نشستوں تک ہی محدود رہ گئی اور اقتدار سے باہر ہو گئی۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ قومی سطح پر ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا نعرہ دینے والی بی جے پی نے مقامی سطح پر اقتدار بچانے کے لیے کانگریس کا سہارا لیا، جس کے بعد مہایوتی اتحاد کے اندر ناراضگی کی آوازیں بھی سنائی دینے لگی ہیں۔
اب سیاسی مبصرین اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ یہ غیر فطری اور حیران کن اتحاد زمینی سطح پر کب تک چل پاتے ہیں، اور بی جے پی قیادت کس طرح مقامی سیاسی مجبوریوں اور قومی سیاسی پیغام کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔