بین الاقوامی

سعودی عرب کے دو صوبوں میں اچانک خطرے کا الرٹ، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت!

سعودی عرب کے دو صوبوں شرورہ اور ینبع میں جمعرات کے روز ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہری دفاع نے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے عوام کو چوکس رہنے کی ہدایت دی۔

سعودی عرب کے دو صوبوں شرورہ اور ینبع میں جمعرات کے روز ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہری دفاع نے ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے عوام کو چوکس رہنے کی ہدایت دی۔

نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے جاری کردہ ان پیغامات میں شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ گھبرانے کے بجائے پرسکون رہیں اور فوری طور پر قریبی محفوظ مقام، خاص طور پر کسی عمارت یا اندرونی کمرے میں پناہ لیں۔

حکام نے ہدایت دی کہ خطرہ ٹلنے تک گھروں کے اندر رہیں اور کھلی جگہوں، کھڑکیوں، شیشوں، بالکونیوں اور عمارتوں کی چھتوں سے دور رہیں۔ اس کے علاوہ باہر موجود افراد کو قریبی عمارت میں داخل ہونے یا کسی مضبوط حفاظتی رکاوٹ کے پیچھے پناہ لینے کا مشورہ دیا گیا۔

ڈرائیونگ کے دوران ہنگامی انتباہ موصول ہونے پر گاڑی پلوں اور بلند عمارتوں سے دور محفوظ مقام پر روکنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ شہری دفاع نے لوگوں کو خطرناک مقامات پر جمع ہونے اور واقعات کی ویڈیو بنانے سے گریز کرنے کی تاکید کرتے ہوئے سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔

ہنگامی صورتحال میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے کے شہریوں کو 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 998 پر رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بعد ازاں شہری دفاع نے اطلاع دی کہ شرورہ اور ینبع دونوں صوبوں میں خطرہ ٹل گیا ہے، تاہم عوام کو احتیاطی تدابیر جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

یہ ہنگامی انتباہ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جولائی 2026 سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اکتوبر کے دوران ان حملوں میں مزید شدت دیکھی گئی۔
ان حملوں میں ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بدھ 4 نومبر کو یمن کی حوثی تحریک نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تازہ میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔

اس واقعہ کے بعد تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ شیخ سعید کی موت بھی سامنے آئی، جو 10 اکتوبر کو ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور منگل 3 نومبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ دوسری جانب یمن کے جنوب مغربی علاقوں، خصوصاً تعز صوبے اور باب المندب آبنائے کے اطراف حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں بھی شدت آگئی ہے۔

واضح رہے کہ حوثیوں کی جانب سے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد سعودی عرب نے مارچ 2015 میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن میں مداخلت کی تھی۔