حیدرآبادسوشیل میڈیاقومی

کھانے پینے کے شوقین افراد کیلئے بری خبر!

حیدرآباد میں چکن بریانی، تنگڑی کباب اور چکن تکہ کے شوقین افراد کو اب ان پکوانوں کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنی پڑسکتی ہے، کیونکہ پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔

حیدرآباد میں چکن بریانی، تنگڑی کباب اور چکن تکہ کے شوقین افراد کو اب ان پکوانوں کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنی پڑسکتی ہے، کیونکہ پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ایل نینو کے اثرات کے سبب پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے والی اہم اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مکئی کی قیمت 18 سے 19 روپے فی کلو سے بڑھ کر 34 سے 35 روپے ہوگئی، جبکہ سویابین کی قیمت بھی 40 روپے سے بڑھ کر 60 سے 70 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

اس اضافے سے پولٹری فارمس کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ فی الحال چکن کی قیمت 210 سے 230 روپے فی کلو کے درمیان ہے۔ انڈوں کی پیداوار پر تقریباً 6 روپے فی انڈہ خرچ ہورہا ہے، جبکہ کسان اسے 4.50 سے 5 روپے میں فروخت کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث انہیں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انڈین پولٹری ایکوپمنٹ مینوفیکچررس اسوسی ایشن کے صدر ادے سنگھ بیاس کے مطابق پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چکن اور انڈوں کی قیمتیں بہت جلد 10 سے 15 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔

تلنگانہ پولٹری فیڈریشن کے صدر کے موہن ریڈی نے بھی کہا کہ ایل نینو کے اثرات اور فیڈ کی بڑھتی قیمتوں نے پولٹری صنعت کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے تقریباً 15 لاکھ میٹرک ٹن مکئی اور 2.40 لاکھ میٹرک ٹن سویابین جاری کیے جانے کے باوجود تاجروں نے ذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے تقریباً 5 لاکھ میٹرک ٹن اسٹاک گوداموں میں روک رکھا ہے، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بازار میں پولٹری فیڈ کی مناسب فراہمی یقینی بنانے کے لیے مداخلت کی جائے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے تاجروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ تلنگانہ میں روزانہ تقریباً 3.8 کروڑ انڈے تیار ہوتے ہیں، جن میں سے 2 کروڑ ریاست میں استعمال ہوتے ہیں جبکہ 1.8 کروڑ انڈے دیگر ریاستوں کو بھیجے جاتے ہیں۔ ریاست میں روزانہ تقریباً 12 لاکھ برائلر مرغیوں کی فروخت ہوتی ہے اور چکن کی فی کس سالانہ کھپت تقریباً 12 کلوگرام بتائی گئی ہے۔