حیدرآباد کے مدرسہ میں 11 سالہ طالب علم کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی، مولوی کے خلاف مقدمہ درج
حیدرآباد کے پرانے شہر کے ایک مدرسے میں 11 سالہ کمسن طالب علم کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ مادنا پیٹ پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع کرما گوڑہ کی فاطمہ مسجد کے مدرسے میں پیش آیا۔
حیدرآباد کے پرانے شہر کے ایک مدرسے میں 11 سالہ کمسن طالب علم کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ مادنا پیٹ پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع کرما گوڑہ کی فاطمہ مسجد کے مدرسے میں پیش آیا۔
متاثرہ بچے کی والدہ نے پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے الزام لگایا کہ مدرسے میں مولوی کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک شخص نے ان کے 11 سالہ بیٹے کے ساتھ نازیبا حرکتیں کیں۔
شکایت کے مطابق، ملزم نے پہلے بچے کو اپنے موبائل فون پر فحش ویڈیوز دکھائیں اور اس کے بعد اسے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم نے بچے کو اس واقعہ کے بارے میں کسی کو بھی نہ بتانے کی دھمکی بھی دی۔
واقعہ کا علم ہونے پر بچے کی والدہ نے مادنا پیٹ پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی مختلف دفعات کے علاوہ پوکسو قانون 2012 کی دفعات 8 اور 10 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔