تلنگانہ

ناگرکرنول کے ایک گاؤں میں لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی تیاری

جس کمپنی نے کانکنی کا پرمٹ حاصل کیا ہے اس نے کئی بار کھدائی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن گاؤں والوں نے اس کو روک دیا۔گاوں والوں کا کہنا ہے کہ دوبارہ کھدائی کی تیاری کی جارہی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ناگر کرنول ضلع کے میلارم گاؤں میں رہنے والوں نے لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی تیاری کی ہے۔ گاؤں میں کانکنی کے اجازت نامہ کو منسوخ کرنے کے مطالبہ پر ان افراد کی جانب سے ریلی نکالی گئی۔

متعلقہ خبریں
نیتی آیوگ کی میٹنگ میں 8 چیف منسٹرس کی غیر حاضری بدقسمتی: بی جے پی
ایگزٹ پول رپورٹس کی فکر نہیں۔ بہتر نتائج کی امید : کے سی آر
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر

 جس کمپنی نے کانکنی کا پرمٹ حاصل کیا ہے اس نے کئی بار کھدائی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن گاؤں والوں نے اس کو روک دیا۔گاوں والوں کا کہنا ہے کہ دوبارہ کھدائی کی تیاری کی جارہی ہے۔

مقامی افراد نے کہا کہ اس معاملے پر انہوں نے کتنی ہی بار عہدیداروں اور عوامی نمائندوں سے شکایت کی لیکن انہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی،اسی لئے وہ لوک سبھا انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

ان افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کھدائی سے ٹیلے پر لگے درختوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ہی تالاب ہے اور ہزاروں ماہی گیر اس پر انحصار کرکے روزی کما رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ وہ ٹیلے پر دیے گئے غیر قانونی کانکنی کے اجازت نامے منسوخ کریں ورنہ وہ اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔