حیدرآباد

رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ میں جرائم کی شرح میں تقریباً 7 فیصد اضافہ

سدھیر بابو نے کہا کہ پولیس منشیات فروخت کرنے والوں اور جعلی بیج سپلائی کرنے والوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ان کی سرگرمیوں کو کنٹرول کر رہی ہے۔

حیدرآباد:تلنگانہ کے رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ میں جرائم کی شرح میں تقریباً سات فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ساتھ ہی سائبر جرائم میں بڑے پیمانہ پراضافہ ہوا۔پولیس نے 2023 میں 30,148 مقدمات درج کیے جبکہ پچھلے سال جملہ معاملات 27,864 تھے۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
تلنگانہ میں آن لائن جوئے اور سٹے بازی میں خطرناک اضافہ، PRAHAR نے ریاست گیر سروے کا اعلان کر دیا
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

پولیس نے 2023 میں 2,564 سائبرجرائم کے معاملات درج کئے جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 2,049 تھی۔ قتل کے واقعات میں بھی تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔کمشنر پولیس رچہ کنڈہ، جی سدھیر بابو نے کہا کہ جرائم میں اضافہ رچہ کنڈہ حدود میں شہری یانے کی وجہ سے ہوا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ رچہ کنڈہ کمشنریٹ پولیس نے دو فیصد سزاوں کو یقینی بنایا ہے۔ریاست میں سزا کی شرح میں رچہ کنڈہ مسلسل پانچ سال سے سرفہرست رہاہے۔سدھیر بابو نے کہا کہ پولیس منشیات فروخت کرنے والوں اور جعلی بیج سپلائی کرنے والوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ان کی سرگرمیوں کو کنٹرول کر رہی ہے۔