تلنگانہ

مجھے گالیاں دینا اور میری موت کی تمنا کرنا ہی حکومت کی اصل پالیسی :کے سی آر

تلنگانہ کی اصل اپوزیشن بی آر ایس کے سربراہ کے چندرشیکھرراو نے ریاست کی کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے قیام کو دو سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن اب تک ایک بھی نئی پالیسی متعارف نہیں کرائی گئی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی اصل اپوزیشن بی آر ایس کے سربراہ کے چندرشیکھرراو نے ریاست کی کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے قیام کو دو سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن اب تک ایک بھی نئی پالیسی متعارف نہیں کرائی گئی۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
ایم ایل اے سری ریوری پرکاش ریڈی کا بیان: کانگریس حکومت پر جعلی خبریں پھیلانے کا الزام
مودی اور کے سی آر پر مذہب اور ذات کی سیاست کا الزام
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت

تلنگانہ بھون میں بی آر ایس ایل پی اور پارٹی کی عاملہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے گالیاں دینا اور میری موت کی تمنا کرنا ہی اب موجودہ حکومت کی اصل پالیسی بن گئی ہے۔

انہوںنے مقامی بلدی اداروں کے انتخابات میں بی آر ایس کی شاندار کارکردگی پر کارکنوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان نتائج نے حکمران جماعت کے خلاف عوامی ناراضگی کو واضح کر دیا ہے جس سے مغرور کانگریس ارکان اسمبلی کو عوام نے سبق سکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دور اقتدار میں کبھی بھی اس طرح کا پرتشدد یا جابرانہ رویہ اختیار نہیں کیا گیا جبکہ آج کی کانگریس حکومت اپوزیشن کے ساتھ بدتمیزی اور انتقامی کارروائیوں کے نت نئے طریقے سکھا رہی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کانگریس حکومت نے نئی اسکیمیں لانے کے بجائے پرانی اسکیموں کو بھی روک دیا ہے اور ان کی توجہ صرف ریئل اسٹیٹ تک محدود ہے جس کی وجہ سے ریاست میں جائیدادوں کی قیمتیں گر گئی ہیں۔

انہوں نے کسانوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں یوریا براہ راست کسانوں کے گھروں تک پہنچتی تھی لیکن آج کسانوں کے پورے خاندان کو ایک تھےلا کھاد کے لئے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔