امریکہ و کینیڈا

36 سال بعد ڈی این اے ٹیسٹ نے کھولا حیران کن راز، پیدائش کے وقت دو نومولود بچوں کی مبینہ تبدیلی، اسپتال کے خلاف مقدمہ

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 26 جنوری 1988 کو نارتھ ڈکوٹا کے یونٹی میڈیکل سینٹر میں پیش آیا، جہاں اسپتال کے عملے کی مبینہ لاپرواہی کے باعث دو بچوں کو ان کے حقیقی والدین کے بجائے دوسرے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔ دونوں افراد اپنی پوری زندگی غلط خاندانوں میں پرورش پاتے رہے اور کسی کو بھی اس سنگین غلطی کا علم نہ ہو سکا۔

نارتھ ڈکوٹا: امریکا کی ریاست نارتھ ڈکوٹا سے ایک ایسا حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس نے دنیا بھر میں لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ مبینہ طور پر ایک اسپتال کی غلطی کے باعث دو نومولود بچوں کی پیدائش کے وقت آپس میں تبدیلی ہو گئی، جس کا انکشاف 36 سال بعد ایک ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہوا۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 26 جنوری 1988 کو نارتھ ڈکوٹا کے یونٹی میڈیکل سینٹر میں پیش آیا، جہاں اسپتال کے عملے کی مبینہ لاپرواہی کے باعث دو بچوں کو ان کے حقیقی والدین کے بجائے دوسرے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔ دونوں افراد اپنی پوری زندگی غلط خاندانوں میں پرورش پاتے رہے اور کسی کو بھی اس سنگین غلطی کا علم نہ ہو سکا۔

حقیقت اس وقت سامنے آئی جب کائل بائلن نے دو سال قبل ایک معمول کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ایک خاتون، جنہیں وہ نہیں جانتے تھے، دراصل ان کی حقیقی خالہ تھیں۔ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کائل اور جیریمی موریسن پیدائش کے وقت غلطی سے ایک دوسرے کے خاندانوں میں چلے گئے تھے۔

جیریمی موریسن نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے خاندان سے مختلف ہیں۔ ان کے سنہرے بال تھے، جبکہ خاندان میں کسی اور کی شکل و صورت ان سے مشابہ نہیں تھی۔ دوسری جانب کائل کے پاس آج بھی اسپتال کی جانب سے دیا گیا وہ شناختی بریسلٹ موجود ہے، جس پر ان کا نام بھی غلط درج تھا۔

حقیقت سامنے آنے کے بعد دونوں افراد اپنے اپنے حیاتیاتی والدین سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ملاقات خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی جذباتی اور غیر معمولی بھی تھی۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں اب تک ایک دوسرے سے آمنے سامنے نہیں مل سکے۔

جیریمی موریسن کا کہنا ہے کہ اگر پیدائش کے وقت یہ غلطی نہ ہوتی تو ان کی زندگی بالکل مختلف ہوتی۔ ان کے مطابق وہ ممکنہ طور پر کولوراڈو کے بجائے نارتھ ڈکوٹا میں اپنے حقیقی خاندان کے ساتھ فارم پر کام کر رہے ہوتے۔

واقعے کے بعد دونوں خاندانوں نے تقریباً ایک سال تک اسپتال کے ساتھ معاملہ باہمی رضامندی سے حل کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیابی نہ ملنے پر انہوں نے یونٹی میڈیکل سینٹر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی غفلت یا غلطی سے انکار کیا ہے اور عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ غیر معمولی واقعہ اب سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیرِ بحث ہے، جہاں لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اسپتال کی ایک مبینہ غلطی نے دو خاندانوں کی زندگیاں 36 سال تک کیسے بدل کر رکھ دیں۔