امریکی جج نے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی ٹرمپ کی نئی کوشش روک دی
ایک امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد سے روک دیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر قرار دیا کہ یہ پالیسی ممکنہ طور پر غیر آئینی ہے اور امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
واشنگٹن: ایک امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد سے روک دیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر قرار دیا کہ یہ پالیسی ممکنہ طور پر غیر آئینی ہے اور امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیبورا بورڈمین نے امیگریشن حقوق کی دو تنظیموں کی درخواست پر ابتدائی حکم امتناعی جاری کیا۔ اپنے 35 صفحات پر مشتمل فیصلے میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی ہدایت متعلقہ بچوں کے معاملے میں ’’تقریباً یقینی طور پر غیر آئینی‘‘ ہے۔
جج بورڈمین کے حکم کے تحت انتظامیہ ایسے بچوں کے خلاف نئی پابندی نافذ نہیں کر سکے گی جو 19 فروری 2025 کے بعد امریکہ میں پیدا ہوئے ہوں اور جن کے والدین میں سے ایک یا دونوں اس وقت ملک میں قانونی طور پر موجود نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے پیدائش کے وقت شہری ہوتے ہیں، خواہ ان کے والدین غیر قانونی طور پر یا عارضی حیثیت کے تحت ملک میں موجود ہوں۔
یہ فیصلہ ٹرمپ کی پیدائشی شہریت کے آئینی حق کو محدود کرنے کی کوششوں کے لیے ایک اور قانونی دھچکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملے کو دوبارہ سپریم کورٹ لے جایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کا موقف ہے کہ پیدائشی شہریت کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت کا حق آئین کی 14ویں ترمیم میں واضح طور پر محفوظ ہے۔