گنٹور میں ایر ٹیکسیوں کے تجربات کامیاب، تجارتی پیداوار کے لئے تیار
سڑکوں اور ٹرینوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباو کو کم کرنے اور عوام کو سستا فضائی سفر فراہم کرنے کے مقصد سے اے پی کے گنٹور میں قائم میگنم ونگس کمپنی نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ابھیرام کی قیادت میں تیار کردہ ایر ٹیکسیاں اب تجارتی سطح پر پیداوار کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
حیدرآباد: سڑکوں اور ٹرینوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباو کو کم کرنے اور عوام کو سستا فضائی سفر فراہم کرنے کے مقصد سے اے پی کے گنٹور میں قائم میگنم ونگس کمپنی نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ابھیرام کی قیادت میں تیار کردہ ایر ٹیکسیاں اب تجارتی سطح پر پیداوار کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ ایر ٹیکسیاں ہندوستانی آب و ہوا اور یہاں کے سخت موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی گئی ہیں اور فی الحال مرکزی حکومت کی جانب سے پالیسی کی منظوری اور حتمی اجازت کا انتظار کر رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع اس وقت اپنی مکمل گنجائش پر چل رہے ہیں جس کی وجہ سے سفر میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں عوام ایک سستے اور تیز رفتار فضائی راستہ کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔
اس ادارہ نے دو سال قبل اس پروجکٹ کا آغاز کیا تھا اور ابتدائی مراحل کے تمام تجربات کامیابی سے مکمل کرلئے۔ کمپنی کے ایم ڈی ابھی رام نے بتایا کہ انہوں نے دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش والی ایر ٹیکسی تیار کی ہے اور ایک شخص کے لیے تیار کردہ ماڈل کے بھی کئی کامیاب تجربات کئے جا چکے ہیں۔
ان تجربات کے دوران خاص طور پر یہ دیکھا گیا کہ پرواز کے دوران دباو کی صورت میں ٹیکسی کا ڈھانچہ کس طرح ردعمل دیتا ہے اور اسے کس طرح کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ ایر ٹیکسی کا ڈیزائن تمام تکنیکی پہلووںپر پورا اترا ہے۔
اس کے علاوہ ہارڈ لینڈنگ ٹسٹ بھی کیا گیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ہنگامی لینڈنگ یا کسی ٹکراوکی صورت میں ڈھانچہ کتنا مضبوط ثابت ہوگا۔ تمام ٹسٹوں کے نتائج انتہائی مثبت رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایر ٹیکسیاں دھول، سخت گرمی اور مختلف جغرافیائی حالات میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے سی آئی آئی کے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ اگلے دو سالوں میں ایر ٹیکسی کی خدمات شروع ہو جائیں گی۔
جیسے ہی حکومت سے منظوری ملے گی یہ ٹیکسیاں عام عوام کے لئے دستیاب کر دی جائیں گی۔ کمپنی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تعاون سے اس ٹکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لئے پرامید ہے۔