گرمیوں سے پہلے ہی حیدرآباد کیلئے خطرہ کی گھنٹی!
حیدرآباد میں موسم گرما کی آمد سے قبل ہی پانی کے بحران کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور شہر کے اہم آبی ذخائر میں پانی کی سطح تیزی سے گھٹنے کے باعث حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا ہوگیا ہے۔
حیدرآباد میں موسم گرما کی آمد سے قبل ہی پانی کے بحران کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور شہر کے اہم آبی ذخائر میں پانی کی سطح تیزی سے گھٹنے کے باعث حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا ہوگیا ہے۔
شہر کے تقریباً 15 لاکھ صارفین کو موسم گرما کے اختتام تک بلا رکاوٹ پانی فراہم کرنا واٹر بورڈ کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پانی کے استعمال میں سخت احتیاط اور متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرنے کے منصوبوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر قلت سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واٹر بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، موسم گرما کے دوران پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر عمل آوری شروع کردی گئی ہے۔
واٹر بورڈ کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ سنگور اور منجیرا آبی ذخائر سے مقررہ 120 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی میں تقریباً 100 ایم جی ڈی کی کمی کا سامنا ہے۔
ان ذخائر میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کے باعث متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس قلت سے خاص طور پر شہر کے مغربی علاقوں میں پٹن چیرو سے نارسنگی تک پھیلے ہوئے تقریباً 3.5 لاکھ پانی کے کنکشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، واٹر بورڈ اس وقت سنگور سے تقریباً 100 ایم جی ڈی پانی حاصل کر رہا ہے، جبکہ جی ایچ ایم سی، سی ایم سی اور ایم ایم سی پر مشتمل کور اربن اکنامی ریجن میں تمام ذرائع سے مجموعی طور پر روزانہ تقریباً 580 ایم جی ڈی پانی سربراہ کیا جا رہا ہے۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سنگور اور منجیرا کے علاوہ پینے کے پانی کے دیگر ذخائر میں موجود پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے مطابق موسم گرما کے اختتام تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم سنگور اور منجیرا سے ہونے والی پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے واٹر بورڈ نے گوداوری، کرشنا، عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے جڑواں آبی ذخائر سے مزید 60 ایم جی ڈی پانی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
اس سلسلے میں موجودہ واٹر سپلائی نیٹ ورک کے ذریعے گوداوری اور کرشنا کا پانی متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ واٹر بورڈ کی کوشش ہے کہ متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرکے 3.5 لاکھ صارفین کو ممکنہ قلت سے بچایا جائے اور موسم گرما کے دوران شہر میں پانی کی سربراہی برقرار رکھی جاسکے۔