حیدرآباد

حیدرآباد میں واٹر لاک ڈاؤن کا خدشہ

زیر زمین پانی کی سطح میں کمی، بورویل خشک، روزانہ 8 ہزار سے زائد ٹینکر بکنگس، مادھاپور، گچی باؤلی، امیرپیٹ اور دیگر علاقوں کے ہاسٹلس متاثر، تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسس اور قبل از وقت تعطیلات کا فیصلہ۔

حیدرآباد میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات اب عام زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، نجی ہاسٹلس اور آئی ٹی کمپنیوں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح انتہائی کم ہوجانے کے باعث کئی علاقوں میں بورویل خشک ہوچکے ہیں اور سینکڑوں فٹ گہرائی تک کھدائی کے باوجود پانی دستیاب نہیں ہو رہا ہے۔

پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں سپلائی کم ہونے کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں نجی ہاسٹلوں اور پی جی رومس کے منتظمین انہیں بند کرنے یا واٹر لاک ڈاؤن نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ خاص طور پر مادھاپور، گچی باؤلی، رائے درگم اور ہائی ٹیک سٹی جیسے آئی ٹی علاقوں کے علاوہ امیرپیٹ، اشوک نگر، دلسکھ نگر اور کوکٹ پلی میں پانی کی قلت نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں طلبہ، ملازمین اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوان رہائش پذیر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صرف سائبرآباد کے حدود میں 2,500 سے زائد خانگی پی جی ہاسٹلس، کو لیونگ اسپیس اور دیگر ہاسٹلس موجود ہیں۔ مادھاپور، منی کونڈہ اور نارسنگی کے بعض بڑے کثیر منزلہ ہاسٹلس میں 500 سے ایک ہزار سے زائد افراد رہتے ہیں، جن کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کم از کم 3 سے 4 واٹر ٹینکرس درکار ہوتے ہیں۔

لیکن پانی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث ہاسٹل انتظامیہ کے لیے ان اداروں کو چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ شہر میں واٹر بورڈ کے پاس روزانہ پانی کے ٹینکرس کے لیے 8 ہزار سے زائد بکنگس موصول ہو رہی ہیں، جو پانی کی قلت کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ بعض علاقوں میں 4 سے 5 دن تک پانی کی سپلائی نہیں ہو رہی ہے، جس کے باعث پینے کے پانی اور دیگر ضروریات کی تکمیل بھی مشکل ہوگئی ہے۔

پانی کی اس قلت سے سب سے زیادہ متاثر طلبہ اور ہاسٹلوں میں رہنے والے نوجوان ہو رہے ہیں۔ اشوک نگر اور امیرپیٹ میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کو پینے، کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے پانی حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے بعض رہائشی کالجوں، تعلیمی اداروں اور نجی ہاسٹلوں کے منتظمین نے قبل از وقت تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ کو اپنے آبائی مقامات واپس جانے کا مشورہ دیا ہے۔ بعض تعلیمی ادارے آن لائن کلاسس شروع کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب شہر کے آئی ٹی شعبے میں بھی پانی کی قلت کے اثرات دکھائی دینے لگے ہیں۔ حکومت کی جانب سے آئی ٹی کوریڈور کے علاقوں میں ورک فرام ہوم کو ترجیح دینے کی ہدایت کے بعد بعض آئی ٹی کمپنیاں اور تعلیمی ادارے آن لائن نظام کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ نارائنا اور چیتنیا جیسے نجی تعلیمی اداروں نے بھی آن لائن کلاسس کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کو ان کے آبائی مقامات روانہ کردیا ہے۔ اسی طرح پانی کی عدم دستیابی کے باعث بعض نجی ہاسٹلس بھی بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

ادھر پانی کی قلت کے معاملے پر ہاسٹل منتظمین میں بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ امیرپیٹ، ایس آر نگر، سری نگر کالونی، پنجہ گٹہ، مدھورا نگر، وینگل راؤ نگر اور بیگم پیٹ کے کئی ہاسٹلس پانی کی ضروریات کے لیے خانگی ٹینکرس پر انحصار کرتے ہیں۔

امیرپیٹ زون میں تقریباً 1,200 سے زائد ہاسٹلس موجود ہیں۔ تاہم حیدرا (HYDRAA) کی جانب سے خانگی واٹر ٹینکرس کے خلاف کارروائی اور پابندیوں کے بعد پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ہاسٹل منتظمین پریشان ہیں۔

اسی سلسلے میں امیرپیٹ ہاسٹل منتظمین ویلفیئر اسوسی ایشن کے صدر ایم راجہ راؤ کی قیادت میں ہاسٹل منتظمین ایس آر نگر واٹر بورڈ کے دفتر پہنچ کر جنرل منیجر سے ملاقات کی اور اپنی مشکلات سے واقف کروایا۔ اس پر جنرل منیجر ستیش نے کہا کہ قواعد کے مطابق بکنگ کیے گئے ٹینکرس ہی فراہم کیے جاسکتے ہیں، جبکہ اضافی ٹینکرس کی فراہمی ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر واٹر بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں اور حیدرا سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا۔

دوسری جانب نجی واٹر ٹینکر مالکان کی ہڑتال کے بعد حکومت نے بھی اس مسئلے پر بات چیت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرا کی کارروائیوں کے خلاف نجی ٹینکر مالکان نے دو دن تک پانی کی سپلائی روک دی تھی، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

بعد ازاں حکومت نے ٹینکر مالکان کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کیا اور واضح کیا کہ کارروائیوں کا مقصد شہر میں زیر زمین پانی کے ذخائر کا تحفظ کرنا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے اندر زیر زمین پانی نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی اور شہر کی ضروریات کے لیے آؤٹر رنگ روڈ کے باہر سے پینے کا پانی ٹینکرس کے ذریعے لایا جائے گا۔

اس فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے نجی ٹینکر مالکان نے اپنی دو روزہ ہڑتال ختم کردی ہے۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ باہر سے پانی لانے کے باعث ٹینکرس کے کرایوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا اضافی بوجھ شہر کے عوام اور ہاسٹل منتظمین کو برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔ دوسری طرف شہر میں پانی کے متبادل انتظامات اور سپلائی میں اضافے کے اقدامات نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔