ممبئی بی ایم سی کے 227 وارڈز پر سب کی نظریں ، 23 مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان گنتی جاری
مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کے بعد آج جمعہ کو ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ پولنگ کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت وکھرولی اور کانڈیولی میں واقع بی ایم سی کے گوداموں میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے اب گنتی کا عمل انجام دیا جا رہا ہے۔
ممبئی: مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کے بعد آج جمعہ کو ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ پولنگ کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت وکھرولی اور کانڈیولی میں واقع بی ایم سی کے گوداموں میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے اب گنتی کا عمل انجام دیا جا رہا ہے۔
بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 227 نشستوں کے لیے تقریباً 1,700 امیدوار میدان میں ہیں۔ ملک کے سب سے امیر بلدیاتی ادارے پر کنٹرول کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مہایوتی اور ادھو ٹھاکرے–راج ٹھاکرے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جمعرات کو ریاست بھر میں 29 بلدیاتی اداروں کے 893 وارڈز میں مجموعی طور پر 2,869 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی۔
ووٹوں کی گنتی کے لیے ممبئی میں 23 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں دو دو ڈویژنوں کے ووٹ بیک وقت شمار کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 23 ریٹرننگ افسران کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔ بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی نے جمعرات کی شام انتظامات کا جائزہ لیا اور بتایا کہ گنتی کے عمل کے لیے 2,299 افسران اور ملازمین تعینات کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ممبئی میں ووٹر ٹرن آؤٹ 52.94 فی صد رہا، جو پچھلے بلدیاتی انتخابات کے 55.53 فی صد کے مقابلے میں کچھ کم ہے۔ سبربن باندھوپ کے وارڈ نمبر 114 میں سب سے زیادہ 64.53 فی صد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی ممبئی کے کولابا وارڈ نمبر 227 میں سب سے کم 20.88 فی صد ووٹرز نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
بی ایم سی کمشنر اور ضلع الیکشن افسر بھوشن گگرانی کے مطابق ووٹوں کی گنتی الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف، محفوظ اور بروقت نتائج کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔