مسجد کے باہر مبینہ ’بھارت ماتا پوجا‘۔ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی (ویڈیو)
تلنگانہ کے رنگاریڈی ضلع کے نیدنورو گاؤں میں ایک مسجد کے باہر مبینہ طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی شاکھا کے انعقاد کا معاملہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے رنگاریڈی ضلع کے نیدنورو گاؤں میں ایک مسجد کے باہر مبینہ طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی شاکھا کے انعقاد کا معاملہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مسجد کے قریب اس طرح کے پروگرام کے انعقاد پر مختلف سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں 10 روزہ شاکھا کے اختتامی پروگرام کو مسجد کے عین باہر منعقد ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے سوال اٹھایا کہ عبادت گاہ کے بالکل سامنے اس طرح کے پروگرام کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے اور کیا حساس مقامات کے معاملے میں انتظامیہ کو زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؟
مقامی آر ایس ایس سرگرمیوں سے متعلق پوسٹس کرنے والے ایس ایس ریڈی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ رنگاریڈی ضلع کے کندکور کھنڈا میں واقع نیدونورو شاکھا میں 10 روزہ ’شاکھا سپتاہم‘ (Shakha Saptaham) پروگرام کے تحت آخری دن ’بھارت ماتا پوجا‘ اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔
ریڈی نے اپنی پوسٹ میں پروگرام کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے تصاویر اور ویڈیوز اتوار، 4 اکتوبر کو شیئر کیں۔ ان کی پوسٹ میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ پروگرام مسجد کے باہر منعقد ہوا تھا۔
پولیس نے ازخود کارروائی شروع کی
سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آنے کے بعد کندکور پولیس نے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس درج کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک پولیس عہدیدار نے اس بات کی تردید کی کہ مذکورہ پروگرام کا تعلق آر ایس ایس سے تھا، حالانکہ وائرل ویڈیوز اور تصاویر کے کیپشن میں اسے آر ایس ایس شاکھا سے منسوب کیا گیا ہے۔
پولیس عہدیدار نے کہا کہ علاقے میں صورتحال پُرامن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریڈی کو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی پوسٹس ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔