دھرم جاگرن یاترا میں بچوں سے مبینہ متنازع نعرے لگوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث
ویڈیو میں متعدد بچے بھی نظر آ رہے ہیں، جن سے مبینہ طور پر ایسے نعرے لگوائے جا رہے ہیں جن پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نئی دہلی: دھرم جاگرن یاترا سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے زیرِ بحث ہے، جس میں بچوں سے مبینہ طور پر مذہبی برتری اور متنازع نوعیت کے نعرے لگوائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں ’وشال داس‘ نامی شخص کا ایک بیان بھی دکھائی دیتا ہے، جس میں مبینہ طور پر ہندوؤں کو بالادست قرار (برتر قرار دینا) دینے سے متعلق بات کہی گئی ہے۔
ویڈیو میں متعدد بچے بھی نظر آ رہے ہیں، جن سے مبینہ طور پر ایسے نعرے لگوائے جا رہے ہیں جن پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ معاملہ خاص طور پر اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ مذہبی پروگرام میں کم عمر بچوں کو متنازع اور مذہبی برتری پر مبنی نعروں کا حصہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے بعض افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ مذہبی یا سماجی پروگراموں میں بچوں کو اس طرح کی زبان اور نعروں سے دور رکھا جانا چاہیے یا نہیں۔ تاہم، ویڈیو کے مکمل پس منظر، مقام اور اس میں موجود افراد سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
https://twitter.com/MuslimVoiceCell/status/2107792149756719528
اس معاملے کے تناظر میں معروف شاعر راحت اندوری کا ایک شعر بھی سوشل میڈیا پر یاد کیا جا رہا ہے:
’’سبھی کا خون شامل ہے اس مٹی میں،
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے۔‘‘
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بچوں کو مذہبی اور متنازع نعروں کا حصہ بنائے جانے کے معاملے پر بحث جاری ہے۔