حیدرآباد میں خواتین کے انڈوں کے مبینہ غیر قانونی کاروبار کا انکشاف
بیگم پیٹ اور سرور نگر میں پولیس کارروائی کے دوران انکشاف، 43 خواتین بازیاب، 8 افراد گرفتار، 22 فرٹیلیٹی اور اے آر ٹی مراکز جانچ کے دائرے میں شامل، تین اسپتالوں کا معائنہ
حیدرآباد کے بیگم پیٹ اور سرور نگر میں جسم فروشی کے خلاف پولیس کی کارروائی کے دوران خواتین کے انڈے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کے مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے 22 فرٹیلیٹی اور اسسٹڈ ری پروڈکٹیو ٹیکنالوجی یعنی اے آر ٹی مراکز کو جانچ کے دائرے میں شامل کیا ہے، جبکہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے ساتھ مل کر تین اسپتالوں کا بھی معائنہ کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں مختلف ریاستوں کی خواتین کو انڈے عطیہ کرنے کے عوض رقم دینے کا لالچ دے کر حیدرآباد لایا جاتا تھا۔ ایجنٹ ان خواتین کو شہر میں کرائے کے مکانات میں ٹھہراتے تھے اور پھر انہیں فرٹیلیٹی مراکز سے متعلق طبی کارروائیوں کے لیے بھیجنے کا انتظام کرتے تھے۔
ملکاجگیری پولیس کمشنر بی سُمتی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران 22 اے آر ٹی اور فرٹیلیٹی مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے ساتھ تین اسپتالوں کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں سے متعلقہ ریکارڈ بھی ضبط کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں اس نوعیت کا یہ پہلا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے جسم فروشی کی سرگرمیوں کی اطلاع پر بیگم پیٹ اور سرور نگر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران پولیس کو خواتین کے انڈے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے والے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق شواہد ملے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق مغربی بنگال، اترپردیش اور مہاراشٹرا سمیت مختلف ریاستوں سے خواتین کو 20 ہزار سے 30 ہزار روپے تک رقم دینے کا وعدہ کرکے حیدرآباد لایا گیا تھا۔ انہیں کرائے کے مکانات میں ٹھہرایا جاتا اور بعد میں طبی کارروائی کے لیے بھیجا جاتا تھا۔
اب تک پولیس نے 43 خواتین کو اس نیٹ ورک سے بچایا ہے، جبکہ آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ خواتین کو کون بھرتی کرتا تھا، ان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے وقت کون طے کرتا تھا اور انہیں دی جانے والی رقم کس طرح تقسیم کی جاتی تھی۔
دوسری جانب تحقیقات میں تین اسپتالوں کے ریکارڈ بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ پولیس 22 فرٹیلیٹی اور اے آر ٹی مراکز کی جانچ کررہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا ان میں سے کسی مرکز نے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر انڈے حاصل کرنے کے عمل میں مدد کی تھی یا نہیں۔
پولیس کمشنر بی سُمتی کے مطابق عام طور پر فرٹیلیٹی مراکز خود خواتین سے انڈے عطیہ کرنے کے لیے رابطہ نہیں کرتے، بلکہ اے آر ٹی مراکز ممکنہ عطیہ دہندگان اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پولیس اس بات کی جانچ کررہی ہے کہ آیا اسی نظام کا غلط استعمال کیا گیا۔
تین اسپتالوں سے ضبط کیے گئے ریکارڈ میں خواتین کے نام، ان کی رضامندی کے دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی جانچ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ کہیں غلط معلومات فراہم کرکے خواتین کو انڈے عطیہ کرنے والی خواتین کے طور پر تو درج نہیں کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے ہارمونل انجیکشن اور بعض ادویات بھی ضبط کی ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ انڈے حاصل کرنے کے طبی عمل سے پہلے خواتین کو انڈوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہارمونل انجیکشن دیے جاتے تھے۔ ضبط شدہ ادویات میں ہیوموگ ایچ پی 150 آئی یو انجیکشن، پرائمولوٹ اور میپریٹ گولیاں شامل ہیں۔ تاہم پولیس نے ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا یہ ادویات خواتین کو استعمال کرائی گئی تھیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں فارنسک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
پولیس کو یہ شبہ بھی ہے کہ بعض خواتین کے دستاویزات میں ان کی ازدواجی حیثیت، شوہر اور بچوں سے متعلق غلط معلومات درج کی گئی ہوں گی۔ تحقیقات کی جارہی ہے کہ آیا غیر شادی شدہ خواتین کو کاغذات میں شادی شدہ ظاہر کیا گیا اور انڈے عطیہ کرنے کے لیے ضروری شرائط پوری کرنے کی خاطر فرضی دستخط یا شناختی دستاویزات کا غلط استعمال کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ دستاویزات اور دیگر شواہد کی جانچ کے بعد اس مبینہ نیٹ ورک میں ایجنٹوں اور طبی اداروں کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔
ادھر تلنگانہ اسٹیٹ ویمنس کمیشن نے خواتین کے مبینہ استحصال کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن نے بچائی گئی خواتین کی تعداد، ان کی طبی حالت اور ان کے تحفظ و بازآبادکاری کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
پولیس کمشنر بی سُمتی نے فرٹیلیٹی علاج کروانے والے جوڑوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انڈے عطیہ کرنے کے عمل سے متعلق قانونی ضابطوں کو نظرانداز نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات میں کسی بھی فرد یا ادارے کی جانب سے خلاف ورزی ثابت ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔