تلنگانہسوشیل میڈیا

فاسٹ فوڈ کے شوقین افراد کیلئے اہم خبر، حکومت کا نیا حکم!

فوڈ پوائزننگ کے خدشات کے پیش نظر حکومت کا فیصلہ، 29 اکتوبر 2027 تک تیاری، ذخیرہ اندوزی اور فروخت پر پابندی برقرار؛ پاسچرائزڈ انڈوں سے تیار مایونیز کو استثنیٰ

تلنگانہ حکومت نے عوام کی صحت کے تحفظ کے پیش نظر کچے انڈوں سے تیار کی جانے والی مایونیز کی تیاری، ذخیرہ کرنے اور فروخت پر عائد پابندی میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے۔ فوڈ سیفٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ تازہ احکامات کے مطابق یہ پابندی 30 اکتوبر 2026 سے 29 اکتوبر 2027 تک برقرار رہے گی۔

حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں 4 نومبر 2026 کو تلنگانہ گزٹ میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈس ایکٹ 2006 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ریاست بھر میں کچے انڈوں سے تیار ہونے والی مایونیز کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور فروخت پر پابندی عائد رہے گی۔

واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے پہلی مرتبہ 30 اکتوبر 2024 کو یہ پابندی عائد کی تھی۔ اس وقت ریاست کے مختلف علاقوں میں فوڈ پوائزننگ کے کئی واقعات سامنے آئے تھے، جس کے بعد فوڈ سیفٹی حکام نے ہوٹلوں اور فوڈ آؤٹ لیٹس کے معائنے کے دوران بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی تھی۔

حکام کو شبہ تھا کہ بغیر کسی خاص عمل سے محفوظ بنائے گئے کچے انڈوں سے تیار ہونے والی مایونیز کے استعمال سے فوڈ پوائزننگ کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں تلنگانہ میں انڈوں سے تیار ہونے والی مایونیز سے متعلق آلودگی کے کم از کم 10 مشتبہ واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

فوڈ سیفٹی حکام نے خاص طور پر سالمونیلا جیسے نقصان دہ بیکٹیریا کے خطرے کی نشاندہی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کچے انڈوں سے تیار کی گئی مایونیز کو مناسب طریقے سے تیار نہ کیا جائے یا اسے صحیح درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھا جائے تو اس میں نقصان دہ بیکٹیریا پیدا ہوسکتے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی تھی جب حیدرآباد سمیت ریاست کے مختلف علاقوں میں موموز، شوارما اور دیگر فاسٹ فوڈ کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے۔ اسی دوران حیدرآباد میں کھانا کھانے کے بعد ایک خاتون کی موت اور کئی افراد کے بیمار ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں۔ تاہم ان تمام واقعات کی وجہ مایونیز کو قرار نہیں دیا گیا تھا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی پابندی تمام اقسام کی مایونیز پر نہیں ہے، بلکہ صرف کچے انڈوں سے تیار کی جانے والی مایونیز پر عائد ہے۔ تجارتی طور پر تیار ہونے والی ایسی مایونیز جس میں پاسچرائزڈ یعنی جراثیم سے محفوظ بنائے گئے انڈوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور جو فوڈ سیفٹی کے مقررہ اصولوں پر پورا اترتی ہے، اس پابندی کے دائرے میں شامل نہیں ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد عوام کو فوڈ پوائزننگ اور دیگر غذائی بیماریوں سے محفوظ رکھنا اور کھانے پینے کی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانا ہے۔