جی ایچ ایم سی کے اسٹریٹ لائٹ کنٹراکٹ میں 500 کروڑ کی مبینہ بے قاعدگیوں کا انکشاف
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے اسٹریٹ لائٹس کی دیکھ بھال کے کنٹراکٹ میں تقریباً 500 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ کنٹراکٹ کی لاگت میں اضافے اور مقررہ تخمینی قیمت سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے فیصلے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے اسٹریٹ لائٹس کی دیکھ بھال کے کنٹراکٹ میں تقریباً 500 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ کنٹراکٹ کی لاگت میں اضافے اور مقررہ تخمینی قیمت سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے فیصلے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اس منصوبے کے لیے ابتدا میں 1,341.60 کروڑ روپے کی انتظامی منظوری دی گئی تھی، تاہم بعد میں اس رقم کو بڑھا کر 1,720.80 کروڑ روپے کردیا گیا۔
مزید برآں، BAC Infratech Private Limited اور Vinci Global Private Limited کے مشترکہ ادارے کو کنٹراکٹ دینے کی منظوری دی گئی، حالانکہ کمپنی کی پیش کردہ بولی تخمینی لاگت سے 4.49 فیصد زیادہ تھی۔
ایک اسٹریٹ لائٹ کی ماہانہ دیکھ بھال کے لیے مقررہ بنیادی شرح 147 روپے طے کی گئی تھی، لیکن منتخب کمپنی نے 153.60 روپے ماہانہ کی پیشکش کی، جو مقررہ شرح سے 4.49 فیصد زیادہ ہے۔
مقررہ قیمت سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی کو کنٹراکٹ دیے جانے اور منصوبے کی مجموعی لاگت میں اضافے کے باعث مالی بے قاعدگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے میں تقریباً 500 کروڑ روپے کے ممکنہ مالی اثرات پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔
اس معاملے نے جی ایچ ایم سی کے ٹنڈرنگ نظام، مالی جانچ اور کنٹراکٹ کی منظوری کے عمل میں شفافیت پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ کنٹراکٹ کی منظوری اور لاگت میں اضافے کی مکمل جانچ اور جوابدہی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔