فیوچر سٹی پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی نوٹوں کی چھپائی کا ریاکٹ بے نقاب؛ چار گرفتار، 6.78 کروڑ کے جعلی نوٹ ضبط
فیوچر سٹی پولیس نے جعلی کرنسی چھاپنے والے ایک بڑے ریاکٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضے سے 6 کروڑ 78 لاکھ روپے مالیت کے جعلی 500 روپے کے نوٹ ضبط کرلیے۔ پولیس نے جعلی نوٹ تیار کرنے میں استعمال ہونے والے پرنٹرز، لیپ ٹاپ، کرنسی کاٹنے والی مشینیں اور دیگر آلات بھی برآمد کیے ہیں۔
حیدرآباد: فیوچر سٹی پولیس نے جعلی کرنسی چھاپنے والے ایک بڑے ریاکٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضے سے 6 کروڑ 78 لاکھ روپے مالیت کے جعلی 500 روپے کے نوٹ ضبط کرلیے۔ پولیس نے جعلی نوٹ تیار کرنے میں استعمال ہونے والے پرنٹرز، لیپ ٹاپ، کرنسی کاٹنے والی مشینیں اور دیگر آلات بھی برآمد کیے ہیں۔
گرفتار افراد کی شناخت مڈوپوجو کرنکار، چنولہ مانکیا ریڈی، چیروکوپلی رتناکر ریڈی اور کرنم اجے کمار کے طور پر کی گئی ہے۔
فیوچر سٹی پولیس کمشنر ڈاکٹر ترون جوشی نے بتایا کہ اتوار کے روز عبداللہ پورمیٹ پولیس اور شادنگر اسپیشل آپریشنز ٹیم (ایس او ٹی) نے قومی شاہراہ 65 پر راموجی فلم سٹی کے قریب ایک کار کو روک کر چاروں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمین شہر کے مضافاتی علاقے کنٹلور میں کرائے کے مکان سے جعلی کرنسی چھاپنے کا یونٹ چلا رہے تھے۔
ڈاکٹر ترون جوشی کے مطابق، ملزمین مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کا روپ دھار کر لوگوں کو دھمکانے اور دھوکہ دینے کے لیے جعلی شناختی کارڈ، واکی ٹاکی اور نقلی پستول کا استعمال بھی کرتے تھے۔
حیدرآباد میں پہلے بھی جعلی کرنسی کے معاملات
حیدرآباد اور اس کے اطراف کے اضلاع میں اس سے قبل بھی جعلی کرنسی کے کئی معاملات سامنے آچکے ہیں۔ دسمبر 2024 میں تلنگانہ پولیس نے بوئن پلی میں کرائے کے پینٹ ہاؤس سے چلائے جانے والے بین ریاستی ریاکٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 56.9 لاکھ روپے مالیت کے جعلی 500 کے نوٹ ضبط کیے تھے۔ اس معاملے میں چھ افراد گرفتار ہوئے تھے۔
اسی طرح فروری 2025 میں حیدرآباد ٹاسک فورس نے نامپلی میں ایک عادی ملزم کو گرفتار کرکے 11.1 لاکھ روپے مالیت کے جعلی نوٹ ضبط کیے تھے۔
حالیہ کارروائی میں 6.78 کروڑ روپے کے جعلی نوٹوں کی ضبطی کو اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ پولیس اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان اور جعلی کرنسی کی تقسیم کے ذرائع سے متعلق تحقیقات کر رہی ہے۔