آندھراپردیش

آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ کی امیت شاہ سے اپیل، طوفان سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے مرکزی ٹیم بھیجی جائے

وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں طوفان کی شدت کے باعث فصلوں، مکانات، سڑکوں اور بجلی کے کھمبوں کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کی اور مرکز سے اپیل کی کہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے جلد از جلد مرکزی ٹیمیں روانہ کی جائیں۔

وجئے واڑہ  :    آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے بدھ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر ریاست میں سمندری طوفان ‘ارنب’ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی حکومت سے تعاون طلب کیا۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں طوفان کی شدت کے باعث فصلوں، مکانات، سڑکوں اور بجلی کے کھمبوں کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کی اور مرکز سے اپیل کی کہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے جلد از جلد مرکزی ٹیمیں روانہ کی جائیں۔

نائیڈو نے بتایا کہ طوفان سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے 14 اضلاع میں قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی 16 اور ریاستی آفات سے نمٹنے والی فورس (ایس ڈی آر ایف) کی 11 ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ طوفان سے متاثرہ علاقوں کے 28 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر قائم امدادی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے پیشگی تیاریوں اور احتیاطی اقدامات کے باعث اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوناسیما، کاکیناڈا، مشرقی گوداوری، مغربی گوداوری، انکاپلی اور کرشنا اضلاع طوفان سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

نائیڈو نے بتایا کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول رومز اور ریاستی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی بحال کرنے کو ترجیح دی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں کہا کہ نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس کی جامع رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کی جائے گی۔ انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ امداد اور بازآبادکاری کے کاموں کے لیے این ڈی آر ایف اور دیگر مرکزی اداروں کا تعاون جاری رکھا جائے۔

نائیڈو نے امیت شاہ سے درخواست کی کہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی ٹیم جلد از جلد آندھرا پردیش روانہ کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے ریاست کی مسلسل مدد کرنے پر مرکزی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔