نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے قانون بنانے کا اعلان، جمعیت العلماء کے اجلاس سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہاکہ جمعیت العلماء ہند نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کیا اور جمعیت العلماء ہند اور کانگریس نے ملک کی آزادی کے لئے کئی قربانیاں دی ہیں جبکہ آج بھی جمعیت العلماء ہند، اقلیتی اور اکثریتی طبقات کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہے۔
حیدرآباد: چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہاکہ جمعیت العلماء ہند نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کیا اور جمعیت العلماء ہند اور کانگریس نے ملک کی آزادی کے لئے کئی قربانیاں دی ہیں جبکہ آج بھی جمعیت العلماء ہند، اقلیتی اور اکثریتی طبقات کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہے۔
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج جمعیت العلماء ہند تلنگانہ کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ یہ اجلاس میٹروکلاسک کنونشن آرام گھر ایکس روڈ پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت صدر جمعیت العلماء تلنگانہ مولانا سید شاہ احسان الدین نے کی۔
اجلاس میں نائب صدرنشین ٹمریز محمد فہیم قریشی، صدرنشین حج کمیٹی سید شاہ غلام افضل بیابانی خسروپاشاہ، جنرل سکریٹری جمعیت العلماء پیر خلیق احمد صابر اور جمعیت العلماء کے اضلاع کے نمائندے اور دیگر نے شرکت کی۔
چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہاکہ ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ کے انتخابات میں جمعیت العلماء نے ان کی رضاکارانہ طورپر مدد کی اور انہیں گلی سے دہلی تک پہونچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس حلقہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں نے مجھے منتخب کرکے پارلیمنٹ بھیجا تھا اور لوک سبھا میں انہوں نے راہول گاندھی کے ساتھ ملکر وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی مخالف عوام پالیسیوں کے خلاف آواز اُٹھائی تھی۔
انہوں نے کہاکہ اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں کی تائید سے تلنگانہ میں کانگریس حکومت قائم ہوئی۔ کانگریس نے ہمیشہ اقلیتی قائدین کو آگے بڑھایا جن میں سلمان خورشید، احمد پٹیل جیسے کئی لیڈرس شامل ہیں جبکہ ریاست میں کانگریس نے اسمبلی انتخابات میں محمد اظہرالدین اور محمد علی شبیر کو ایم ایل اے کا ٹکٹ دیا تھا اور آٹھ کارپوریشنوں میں اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی۔
یہاں تک انتخابات میں شکست کے باوجود محمد اظہرالدین کو ایم ایل سی نامزد کرتے ہوئے اُنہیں ریاستی وزیر بنایاگیا۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ بلدی انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں اس کے ساتھ انہیں اقلیتی امیدواروں کو بھی کامیاب بنانا چاہئے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کیلئے آئندہ اسمبلی کے اجلاس میں قانون بنایاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی ترقی کیلئے عوام میں اتحاد اتفاق امن وامان اور سرمایہ کاری کا تحفظ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہاکہ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھرریڈی نے اقلیتوں کو چارفیصد تحفظات فراہم کئے تھے۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ذات پات کی مردم شماری میں اقلیتی آبادی کا اندراج کیا گیا اور سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے وقت یہ اعداد و شمار پیش کئے جائیں گے تا کہ 4 فیصد تحفظات پر مکمل عمل درآمد ہوسکے۔
امیت شاہ کی جانب سے اقلیتوں کو دستیاب 4 فیصد تحفظات ختم کرنے کے بیان کو چالینج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگراُن میں دم ہے تو تلنگانہ میں اقتدار حاصل کر کے دکھائیں۔ نائب صدر نشین ٹمریز محمد فہیم قریشی نے صرف 2یوم کے کم وقت میں جمعیت العلماء کے نمائندوں کی آج کے اجلاس میں شرکت پر تمام کاشکریہ ادا کیا۔
جمعیۃ العلماء نے ہمیشہ کانگریس کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام طلبہ کے اسکالر شپ جاری کردیئے گئے ایک روپیہ بھی باقی نہیں ہے۔ انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اوورسیز اسکالر شپ سے استفادہ کر کے اپنے بچوں کو امریکہ و دیگر ممالک کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے روانہ کریں۔
انہوں نے بلدی انتخابات میں کانگریس کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔ جمعیت العلماء تلنگانہ کی جانب سے مطالبات پر مبنی یادداشت حوالے کی گئی حکومت سے مسلمانوں سے منشور میں کئے گئے دعوں پر عمل آوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس میں نفرت پر مبنی تقاریر کو روکنے کیلئے قانون بنانے،اقلیتوں کیلئے سب پلان دینے اور ہر سال حکومت کی جانب سے اقلیتوں کیلئے جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے اسے پورا خرچ کرنے، حکومت کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو 80 فیصد سبسیڈی پر 5 لاکھ کا قرض فراہم کرنے، ائمہ کے اعزازیہ میں اضافہ کر کے 12ہزار مقرر کرنا شامل ہے۔
حکومت کی جانب سے سال 2024 میں ذات پر مبنی مردم شماری کرنے پر حکومت کی ستائش کی گئی۔ جنرل سکریٹری جمعیت العلماء پیر خلیق احمد صابر نے ان مطالبات کو پڑھ کر سنایا اور جمعیت کے نمائندوں نے ان مطالبات کی تائید کی۔