گُرکُل اسکول میں رَیگنگ کا ایک اور واقعہ، 8ویں جماعت کے طالب علم کو اضافی چپاتی مانگنے پر مبینہ طور پر پیٹ دیا گیا
تلنگانہ کے وقارآباد ضلع کے تندور میں واقع سوشل ویلفیئر گُرکُل اسکول میں رَیگنگ کے مبینہ واقعے پر طلبہ کے والدین میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 8ویں جماعت کے ایک طالب علم کو کھانے کے دوران اضافی چپاتی مانگنے پر 9ویں جماعت کے طلبہ نے مبینہ طور پر قلم سے مارا۔
وقارآباد: تلنگانہ کے وقارآباد ضلع کے تندور میں واقع سوشل ویلفیئر گُرکُل اسکول میں رَیگنگ کے مبینہ واقعے پر طلبہ کے والدین میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 8ویں جماعت کے ایک طالب علم کو کھانے کے دوران اضافی چپاتی مانگنے پر 9ویں جماعت کے طلبہ نے مبینہ طور پر قلم سے مارا۔
اطلاعات کے مطابق بالورو سوشل ویلفیئر گُرکُل اسکول میں کھانے کے وقت 8ویں جماعت کے طالب علم سائی بالاجی نے اضافی چپاتی مانگی۔ اس پر مبینہ طور پر 9ویں جماعت کے چند طلبہ نے اعتراض کیا اور اس بات پر بحث شروع ہوگئی کہ اسے اضافی چپاتی کیوں دی جائے۔
بحث کے دوران سینئر طلبہ نے مبینہ طور پر سائی بالاجی کو قلم سے مارا، جس کے بعد واقعے کی اطلاع دیگر طلبہ کے والدین تک پہنچی۔
واقعے سے ناراض کئی طلبہ کے والدین پولیس کو ساتھ لے کر اسکول پہنچے۔ والدین کا الزام ہے کہ اسکول اسٹاف نے انہیں اور پولیس اہلکاروں کو کافی دیر انتظار کرنے کے باوجود ہاسٹل کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔
والدین نے اسٹاف کے مبینہ لاپرواہ رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب اسکول کے پرنسپل نے واقعے کے حوالے سے مختلف موقف پیش کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سائی بالاجی پہلے بھی دیگر طلبہ کے ساتھ جھگڑوں میں ملوث رہا ہے اور اس سلسلے میں اسے پہلے تحریری نوٹس کے ذریعے لڑائی جھگڑے سے باز رہنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔
واقعے کے بعد گُرکُل اسکولوں میں طلبہ کی حفاظت، رَیگنگ کی روک تھام اور ہاسٹل میں نگرانی کے انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ دار طلبہ اور غفلت برتنے والے اسٹاف کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔