سیاست

عام آدمی پارٹی کی پرینکا ککڑ سمیت تین اہم لیڈران کی کانگریس میں شمولیت

محترمہ ککڑ نے کہا کہ وہ دہلی کو پھر سے ویسا ہی سبز، صاف ستھرا، ترقی پسند اور محفوظ دیکھنا چاہتی ہیں، جیسی وہ ان کے بچپن کے دنوں میں تھی

نئی دہلی :  عام آدمی پارٹی کی سابق چیف قومی ترجمان اور سپریم کورٹ کی سینئر وکیل پرینکا ککڑ، اتر پردیش کے سابق ایم ایل اے شیام سندر شرما اور سینئر صحافی رجت راکیش ٹنڈن ہفتہ کو کانگریس میں شامل ہو گئے۔

کانگریس کے جموں و کشمیر اور لداخ کے انچارج ڈاکٹر ناصر حسین، ورکنگ کمیٹی کے رکن راجیو شکلا، کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا اور دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے ہفتہ کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران ان رہنماؤں کو انگ وستر پہنا کر کانگریس کی رکنیت دلائی اور ان کا پارٹی میں استقبال کیا۔ اس دوران کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ لداخ سے کنیا کماری تک لوگ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

مسٹر شکلا نے اس موقع پر کہا کہ آج بہت خوشی کا دن ہے۔ اتر پردیش کے کافی بااثر رہنما اور آٹھ بار ایم ایل اے رہے سابق وزیر مسٹر شرما کے ساتھ ہی پرینکا ککڑ اور رجت راکیش ٹنڈن بھی کانگریس سے جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کے ساتھ آنے سے اتر پردیش اور ملک کی سیاست پر اثر پڑے گا۔

محترمہ ککڑ نے کہا کہ وہ دہلی کو پھر سے ویسا ہی سبز، صاف ستھرا، ترقی پسند اور محفوظ دیکھنا چاہتی ہیں، جیسی وہ ان کے بچپن کے دنوں میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندستانی سیاست میں ایک دہائی سے زیادہ کے تجربے کے بعد ان کا یقین ہے کہ کانگریس ہی ایسا کر سکتی ہے۔ عام آدمی پارٹی چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نے عوام سے کہا تھا کہ وہ بنگلہ اور گاڑی نہیں لے گی، لیکن بعد میں ذاتی سفر کے لیے چاپر کا استعمال ہونے لگا۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر راہل گاندھی آج ‘ووٹ چوری’ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور انہوں نے عوام کو بتایا ہے کہ ان کا ووٹ چرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کانگریس رہنماؤں کا انہیں پارٹی خاندان کا حصہ بنانے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

مسٹر ٹنڈن نے کہا کہ ان کے خاندان کا کانگریس سے پرانا تعلق رہا ہے اور ان کی سوچ اور سمجھ کانگریس پارٹی کے ساتھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی کے طور پر انہوں نے طویل عرصے تک کانگریس کو کور کیا ہے اور اس دوران دیکھا کہ یہ ایسی پارٹی ہے، جس میں لوگوں کی بات سنی جاتی ہے۔ ملک کا نوجوان آج پریشان ہے اور سڑکوں پر ہے لیکن اس کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر کسی نے نوجوانوں کے لیے آواز اٹھائی ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ دبے اور کئی لوگ چپ ہوئے، لیکن راہل گاندھی مضبوطی سے کھڑے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجاہدِ آزادی پرشوتم داس ٹنڈن کے خاندان سے ہیں اور وہ دہائیوں تک صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔