گریٹر حیدرآباد میں ایک لاکھ سے زائد جائیدادیں 22-A کے تحت بلیک لسٹ، مالکان پریشان
اطلاعات کے مطابق ممنوعہ فہرست میں شامل جائیدادوں کی مجموعی مالیت ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد بتائی جارہی ہے۔ متاثرہ مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی دہائیاں قبل تمام ضروری اجازت ناموں اور قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد یہ جائیدادیں خریدی تھیں، لیکن اب اچانک انہیں بلیک لسٹ کیے جانے سے وہ اپنی جائیدادیں فروخت یا منتقل کرنے سے قاصر ہیں۔
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میں ایک لاکھ سے زائد مکانات، پلاٹس، اپارٹمنٹس اور کمرشل جائیدادوں کو مبینہ طور پر 22-A کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے سے ہزاروں جائیداد مالکان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ممنوعہ فہرست میں شامل جائیدادوں کی مجموعی مالیت ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد بتائی جارہی ہے۔ متاثرہ مالکان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی دہائیاں قبل تمام ضروری اجازت ناموں اور قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد یہ جائیدادیں خریدی تھیں، لیکن اب اچانک انہیں بلیک لسٹ کیے جانے سے وہ اپنی جائیدادیں فروخت یا منتقل کرنے سے قاصر ہیں۔
جائیداد مالکان اپنی جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست سے خارج کرانے اور صورتحال کی وضاحت حاصل کرنے کے لیے کلکٹریٹ اور رجسٹریشن دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ شہر کے کئی اہم اور مہنگے علاقوں میں واقع جائیدادیں بھی اس فہرست سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان علاقوں میں جوبلی ہلز، بنجارہ ہلز، گچی باولی، شیخ پیٹ، امیر پیٹ، خیریت آباد، پنجہ گٹہ، سری نگر کالونی، ایس آر نگر، ایرگڈہ، شیرلنگم پلی، راجندر نگر، شمس آباد، مہیشورم، پٹن چیرو، رام چندراپورم، امین پور، بہادرپلی، قطب اللہ پور، ملکاجگیری اور اپل شامل ہیں۔
یہ معاملہ صرف گریٹر حیدرآباد تک محدود نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ بھر میں لاکھوں جائیدادوں کو 22-A کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے تقریباً 54 فیصد جائیدادیں حیدرآباد، میڑچل-ملکاجگیری، رنگاریڈی اور سنگاریڈی اضلاع میں بتائی جاتی ہیں۔
اس صورتحال سے بینک اور مالیاتی ادارے بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے کئی جائیدادوں پر پہلے ہی ہوم لون اور مارٹگیج لون دیے جاچکے ہیں۔ اب رجسٹریشن رک جانے کے باعث بینکوں کو بھی اپنے قرضوں اور وصولی کے عمل پر ممکنہ اثرات کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔
متاثرہ جائیداد مالکان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ایسی جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست سے نکالنے کے لیے شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے جنہیں قانونی دستاویزات اور ضروری اجازت ناموں کے ساتھ خریدا گیا تھا۔
جائیداد مالکان، بینکوں اور رئیل اسٹیٹ شعبے سے وابستہ افراد اب حکومت سے وضاحت اور مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔