حیدرآباد

کاویری بس کا ایک اور بڑا حادثہ ٹل گیا، بس کے ٹائروں میں سے اچانک دھوا نکلنے لگا

ڈرائیور نے فوری طور پر سمجھداری دکھاتے ہوئے بس کو پدا عنبرپیٹ فلائی اوور کے قریب ہی روک دیا اور تمام مسافروں کو نیچے اتار دیا، لیکن اس کے بعد کی صورتحال مسافروں کیلئے مزید تکلیف دہ ثابت ہوئی۔

حیدرآباد: رنگا ریڈی ضلع کے پدا عنبرپیٹ فلائی اوور پر منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب ایک بڑا حادثہ ٹل گیا، تاہم ٹراویل کمپنی کی سنگین لاپرواہی نے مسافروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق، ویموری کاویری ٹراویلز کی بس جو حیدرآباد سے سری کاکولم جا رہی تھی اچانک اوور ہیٹ ہو گئی، جس کے نتیجے میں بس کے ٹائروں سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھنے لگے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

ڈرائیور نے فوری طور پر سمجھداری دکھاتے ہوئے بس کو پدا عنبرپیٹ فلائی اوور کے قریب ہی روک دیا اور تمام مسافروں کو نیچے اتار دیا، لیکن اس کے بعد کی صورتحال مسافروں کیلئے مزید تکلیف دہ ثابت ہوئی۔

مجموعی طور پر 26 مسافر، جن میں خواتین اور بزرگ بھی شامل تھے، شدید سردی میں رات گئے تک سڑک کنارے بے یار و مددگار کھڑے رہے۔ کاویری ٹراویلز کی جانب سے نہ کوئی دوسری بس فراہم کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی رہنمائی یا مدد دی گئی، جس پر مسافر کمپنی کی اس سنگین غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ کئی مسافروں نے شکایت کی کہ کمپنی انتظامیہ نے ایمرجنسی صورتحال میں مکمل طور پر عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث وہ گھنٹوں تک تکلیف میں رہے۔

یہ واقعہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ان متعدد ٹراویلز اور آر ٹی سی بس حادثات کی ایک اور کڑی ہے جنہوں نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں ریاستوں میں مسافروں کی حفاظت سے متعلق سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ کل ہی آندھرا پردیش کے نندی گاما کے قریب ایک ٹراویلز بس لاری کو اوور ٹیک کرتے ہوئے بے قابو ہو کر حادثے کا شکار ہوئی، جس میں آٹھ مسافر زخمی ہوئے۔

دو روز قبل ورنگل۔حیدرآباد ہائی وے پر ایک آر ٹی سی بس ریت سے بھری لاری سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور چھ شدید زخمی ہو گئے۔ منگل کے روز بیگم پیٹ میں بھی تیز رفتار ٹرک اور جیپ کے درمیان خوفناک تصادم پیش آیا جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

مسلسل بڑھتے ہوئے ان حادثات نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹراویل کمپنیوں کی جانب سے گاڑیوں کی مناسب مینٹیننس، ڈرائیوروں کی تربیت اور ایمرجنسی انتظامات میں واضح کوتاہیاں پائی جا رہی ہیں۔ مسافرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے بے احتیاطی بھرے رویے پر فوری روک نہ لگائی گئی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمے نجی ٹراویل کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مؤثر حفاظتی اقدامات نافذ کریں تاکہ مسافروں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔