1 لاکھ ڈالر H-1B ویزا فیس پر ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اور جھٹکا، وفاقی اپیل عدالت نے حکمِ امتناع سے انکار کردیا
بوسٹن کی وفاقی عدالت نے اس سے قبل H-1B ویزا درخواستوں پر عائد 1 لاکھ ڈالر کی فیس کو مسترد کردیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی اپیل عدالت سے رجوع کرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے پر عارضی طور پر روک لگانے کی درخواست کی تھی۔
واشنگٹن: H-1B ویزا پر 1 لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کے فیصلے کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ وفاقی اپیل عدالت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے پر حکمِ امتناع جاری کرنے سے انکار کردیا ہے، جس میں H-1B ویزا فیس میں اضافے کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
بوسٹن کی وفاقی عدالت نے اس سے قبل H-1B ویزا درخواستوں پر عائد 1 لاکھ ڈالر کی فیس کو مسترد کردیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی اپیل عدالت سے رجوع کرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے پر عارضی طور پر روک لگانے کی درخواست کی تھی۔
تاہم، وفاقی اپیل عدالت نے حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بوسٹن کی وفاقی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے H-1B ویزا فیس میں اضافے کو نافذ کرنے کی کوششوں کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ہنرمند غیر ملکی کارکنوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ان کاروباری اداروں میں بھی دلچسپی بڑھ گئی ہے جو دنیا بھر سے خصوصی مہارت رکھنے والے افراد کی بھرتی کے لیے H-1B ویزا پروگرام پر انحصار کرتے ہیں۔
H-1B ویزا پروگرام خاص طور پر ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس فیس میں بڑے اضافے کو کاروباری اداروں اور تارکین وطن کارکنوں کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔