ٹرمپ نے بعض ایچ۔ون بی ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس کی شرط مزید ایک سال بڑھا دی
وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعہ کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے، جس کا مقصد ایچ۔ون بی پروگرام کی شفافیت اور نگرانی کو مضبوط بنانا، مختلف وفاقی اداروں کے درمیان تال میل بہتر کرنا اور پروگرام کے مبینہ غلط استعمال سے نمٹنا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایچ۔ون بی ویزا پروگرام کے تحت بعض درخواستوں پر عائد ایک لاکھ ڈالر فیس کی شرط میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ملازمین کے تحفظ اور ویزا پروگرام کے مبینہ غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ایچ۔ون بی درخواستوں کی جانچ مزید سخت کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعہ کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے، جس کا مقصد ایچ۔ون بی پروگرام کی شفافیت اور نگرانی کو مضبوط بنانا، مختلف وفاقی اداروں کے درمیان تال میل بہتر کرنا اور پروگرام کے مبینہ غلط استعمال سے نمٹنا ہے۔
نئے حکم نامے میں امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ محنت اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایچ۔ون بی ویزا درخواستوں کا جائزہ لیتے وقت اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ متعلقہ آجر نے حال ہی میں امریکی ملازمین کو برطرف کیا ہے یا مستقبل میں ملازمتیں ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان محکموں کو محکمہ تجارت، محکمہ تعلیم اور سمال بزنس ایڈمنسٹریشن کے حکام سے مشاورت کرتے ہوئے اجرتوں، صنعتی حالات اور مخصوص نوعیت کی ملازمتوں سے متعلق اضافی معلومات حاصل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
دریں اثنا، بعض ایچ۔ون بی ویزا درخواستوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس کی شرط کو بھی مزید ایک سال کے لیے برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ فیس پہلی مرتبہ 19 ستمبر 2025 کو عائد کی گئی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسی پالیسیوں اور طریقوں کی روک تھام ہے جو امریکی شہریوں کے روزگار اور قومی سلامتی کو متاثر کرسکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ 2025 کے حکم نامے کے نفاذ کے بعد بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کی جانب سے دائر کیے جانے والے ایچ۔ون بی رجسٹریشن میں 92 فیصد کمی آئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کم اجرت پر غیر ملکی ملازمین کی خدمات حاصل کرنے سے ہنرمند امریکی کارکنوں کی اجرت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
فیکٹ شیٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض آجروں نے ایچ۔ون بی ملازمین کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے انتہائی اہل امریکی کارکنوں کو ملازمت سے برطرف کیا۔ وائٹ ہاؤس نے بعض ایچ۔ون بی اسپانسرز کی آؤٹ سورسنگ پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ملازمتیں، جو ایچ۔ون بی ملازمین انجام دیتے ہیں، بعد میں امریکہ سے باہر منتقل کی جاسکتی ہیں۔