سری سیلم ذخیرہ سے 21 دن میں 53 ٹی ایم سی پانی چھوڑنے کا اے پی پر الزام
آندھرا پردیش پر سری سیلم ذخیرۂ آب سے مبینہ طور پر من مانی انداز میں پانی چھوڑنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اے پی نے 21 دن کے دوران تقریباً 53 ٹی ایم سی پانی جاری کیا۔
حیدرآباد: آندھرا پردیش پر سری سیلم ذخیرۂ آب سے مبینہ طور پر من مانی انداز میں پانی چھوڑنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اے پی نے 21 دن کے دوران تقریباً 53 ٹی ایم سی پانی جاری کیا۔
الزامات کے مطابق آندھرا پردیش نے سیلابی پانی کا حوالہ دیتے ہوئے پو تھریڈی پڈو ہیڈ ریگولیٹر اور ویلی گونڈا کے راستے پانی جاری کیا۔
بتایا گیا ہے کہ 21 اگست کو سری سیلم ذخیرے میں تقریباً 170 ٹی ایم سی پانی موجود تھا، جو اب گھٹ کر تقریباً 117 ٹی ایم سی رہ گیا ہے۔ اس طرح 21 دن کے دوران ذخیرے میں پانی کی مقدار میں تقریباً 53 ٹی ایم سی کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پانی کے اس مبینہ اخراج نے تلنگانہ کے سیاسی اور آبپاشی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ بین ریاستی ذخیرۂ آب سے پانی کے استعمال کے معاملے میں تلنگانہ کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تلنگانہ حکومت پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے کلواکرتھی لفٹ اریگیشن اسکیم اور پالمورو-رنگاریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم کے پمپس بند رکھے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بارہا درخواستوں کے باوجود پمپس کو دوبارہ چلانے اور متعلقہ ذخائر کو پانی سے بھرنے کے اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور آبپاشی کے وزیر این اتم کمار ریڈی سے بھی پمپس چلانے کی اپیل کی گئی، تاہم کوئی مثبت کارروائی نہیں ہوئی۔
حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ لفٹ اریگیشن اسکیموں کے پمپس کو مفت برقی سربراہی کے ذریعے چلایا جاسکتا ہے۔ تاہم ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر بجلی دستیاب ہے تو پمپس کو مکمل طور پر کیوں نہیں چلایا جا رہا۔
تنقید کرنے والوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ریونت ریڈی اور اتم کمار ریڈی نے آندھرا پردیش کی جانب سے پانی کے مبینہ اخراج پر اب تک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔
دریں اثنا، برقی امور کے وزیر ملو بھٹی وکرمارکا نے بھی بجلی سے متعلق مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث لفٹ اریگیشن پراجیکٹس کے پمپس چلانے کا معاملہ مزید بحث میں آگیا ہے۔
سری سیلم ذخیرے سے پانی کے اخراج اور تلنگانہ میں لفٹ اریگیشن پراجیکٹس کے پمپس کے آپریشن کا معاملہ کرشنا دریا کے پانی کی تقسیم کو لے کر دونوں ریاستوں کے درمیان جاری اختلافات کے تناظر میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
اس معاملے پر آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے آبپاشی حکام کی جانب سے مزید وضاحت کا انتظار ہے۔