گنٹور لڑکی کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر اے پی ہائی کورٹ برہم، ڈی جی پی کو کل لڑکی پیش کرنے کا حکم
آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے گنٹور سے ایک لڑکی کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں پولیس کی تفتیش پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود پولیس اب تک لڑکی کا سراغ لگانے میں کیوں ناکام رہی۔
گنٹور: آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے گنٹور سے ایک لڑکی کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں پولیس کی تفتیش پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود پولیس اب تک لڑکی کا سراغ لگانے میں کیوں ناکام رہی۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی اور مختلف وسائل دستیاب ہونے کے باوجود ایک لڑکی کو تلاش کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
عدالت نے پولیس کی تفتیش پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی تحقیقات کی جا رہی ہیں تو پھر تین ماہ گزرنے کے باوجود لڑکی کا سراغ کیوں نہیں ملا؟ عدالت نے اس صورتحال پر حکومت اور پولیس انتظامیہ کی سخت سرزنش کی۔
ہائی کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آندھرا پردیش کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ لاپتہ لڑکی کو ہر صورت کل عدالت میں پیش کیا جائے۔
ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس کے بعد پولیس انتظامیہ پر لڑکی کی تلاش اور معاملے کی تحقیقات میں تیزی لانے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔